میں یہ نظر آتا کہ وہاں گناہ نہیں ہے،لیکن جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں حیوانوں سے بھی بڑھ کر ذلیل زندگی بسر کی جاتی ہے۔تو ہم کو اس طریق انسداد گناہ پر اور بھی حیرت ہوتی ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ اس سے بہتر تھا کہ یہ کفارہ نہ ہوا ہوتا ۔جس نے اباحت کا دریا چلا دیا۔ اور پھر اس کو معافی گناہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔اسی طرح پر دوسرے لوگوں نے جو طریقے نجات کے ایجاد کئے ہیں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ اُن سے گناہ کی زندگی پر کبھی موت وارد ہوئے ہو۔پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ شریر اور خطا کار قومیں معجزات دیکھ کر پیشگوئیان دیکھ کر باز نہیں آئیں۔حضرت موسیٰ کے معجزات کیا کم تھے۔؟ کیا بنی اسرائیل نے کھلے کھلے نشان نہ دیکھے تھے،مگر بتائو کہ اُن میں وہ تقویٰ اور خدا ترسی اور نیکی جو حضرت موسیٰؑ چاہتے تھے کامل طور پر پیدا ہوئے۔آخر ضر بت علیہم الذلۃ والمسکنۃ (البقرہ : ۶۲) کے مصداق وہ قوم ہو گی۔ پھر حصرت مسیح کے معجزات دیکھنے والے لوگوں کو دیکھو کہ اُن میں کہان تک نیکی اور پرہیز گاری اور وفاداری کے اصولوں کی رعایت تھی۔اُن میں سے ہی ایک اٹھا اور اے ربی تجھ پر سلام کہتے ہوئے پکڑوادیا ۔اور دوسرے نے سامنے لعنت کی۔ان ساری باتوں کو دیکھ کر پھر سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا شئے ہے۔ جو انسان کو واقعی گناہ سے روک سکتی ہے؟۔ میرے نزدیک خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت ایسی چیز ہے جو انسان کی گناہ کی زندگی پر موگ وارد کرتے ہے۔جب سچا خوف دل میںپیدا ہوتا ہے تو پھر دعا کے لیے تحریک ہوتی ہے اور دعا وہ چیز ہے جو انسان کی کمزوریوں کا جبر نقصان کرتی ہے۔اس لیے دعا کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ کا وعدہ بھی ہے۔ ادعونی استجب لکم (المومن : ۶۱) بعض وقت انسان کو ایک دھوکا لگتا ہے کہ وہ عرصہ دراز تک ایک مطلب کے لیے دعا کرتا ہے اور وہ مطلب پورا نہیں ہوتا تب وہ کھبرا جاتا ہے؛ حالانکہ گھبرانا نہ چاہیے۔بلکہ طلبگار باید صبور و حمول۔دعا تو قبول ہو جاتی ہے،لیکن انسان کو بعض دفعہ پتہ نہیں لگتا۔کیونکہ وہ اپنی دعا کے انجام اور نتائج سے آگاہ نہیں ہوتا اور اﷲ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس کے لیے وہ کرتا ہے جو مفید ہوتا ہے۔اس لیے نادان انسان یہ خیال کر لیتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئے؛ حالانکہ اس کے لیے اﷲ تعالیٰ کے علم میں یہی مفید تھا۔کہ وہ دعا اس طرح پر قبول نہ ہو بلکہ کسی اور رنگ میں ہو۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے آگ کا سرخ انگارہ دیکھ کر مانگے تو کیا دانشمند ماں اُسے دیدے گی؟ کبھی نہیں۔اسی طرح پر دعا کے متعلق کبھی ہوتا ہے۔غرض دائیں کرنے سے کبھی تھکنا نہیں چاہیے۔دعا ہی ایسی چیز ہے جو خدا کی طرف سے ایک قوت اور نور عطا کرتی ہے۔جس سے انسان بدی پر غالب آجاتاہے۔