میں بھی شریک ہو جائو۔بدنی کمزوریوں کا بھی علاج کرو۔کوئی جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جبتک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہیں دیتے اور اس کی یہی صورت ہے کہ اُن کی پردہ پوشی کی جاوے۔صحابہ کو یہی تعلیم ہوئے کہ نئے مسلموں کی کمزوریاں دیکھ کر نہ چڑو،کیونکہ تم بھی ایسے ہی کمزور تھے۔اسی طرح یہ ضروری ہے کہ بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت ملائمت کے ساتھ برتائو کرے۔دیکھو وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چار مل کر بیٹھیں۔تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں اور کمزوروں اور غریبوں کی حقارت کریں اور اُن کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھیں۔ایسا ہر گز نہیں چاہیے۔بلکہ اجماع میں چاہیے کہ قوت آجاوے اور وحدت پیدا ہو جاوے جس سے محبت آتی ہیاور برکات پیدا ہوتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ ذرا ذرا سی بات پر اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مخالف لوگ جو ہماری ذرا ذرا سی بات پر نظر رکھتے ہیں۔معمولی باتوں کو اخباروں میں بہت بڑی بنا کر پیش کر دیتے ہیں اور خلق کو گمراہ کرتے ہیں۔لیکن اگر اندرونی کمزوریاں نہ ہوں تو کیوں کسی کو جرأت ہو کہ اس قسم کے مضامین شائع کرے اور ایسی خبروں کی اشاعت سے لوگوں کو دھوکا دے۔کیوں نہیں کیا جاتا کہ اخلاقی قوتوں کو وسیع کیا جاوے۔اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی۔محبت اور عفو اور کرم کو عام کیا جاوے۔اور تمام عادتوں پر رحم۔ہمدردی اور پردہ پوشی کو مقدم کر لیا جاوے۔ذرا ذرا سی بات پر ایسی سخت گرفتیں نہیں ہونی چاہئیں جو دل شکنی اور رنج کا موجب ہوتی ہیں۔یہان مدرسہ ہے۔مطبع ہے مگر کیا اصل اغراض ہمارے یہی ہیں۔یا اصل امور اور مقاصد کے لیے بطور خادم ہیں؟ کیا ہماری غرض اتنی ہی ہے کہ یہ لڑکے پڑھ کر نوکر یاں کریں یا کتابیں بیچتے رہیں۔یہ تو سفلی امور ہیں ان سے ہمیں کیا تعلق۔یہ بالکل ابتدائی امور ہیں۔اگر مدرسہ چلتا رہے تب بھی بنظرظاہر بیس برس تک بھی یہ اس حالت تک نہیں پہنچ سکتا ۔جو اس وقت علیگڈھ کالج کی ہے۔یہ امر دیگر ہے کہ اگر خدا چاہے تو ایک دم میں اسے علیگڈھ کالج سے بھی بڑا بنادے۔مگر ہماری ساری طاقتیں اور قوتیں اسی ایک امر میں خرچ ہونی ضروری نہیں ہیں۔ اخوت و ہمدردی کی نصیحت ہماری جماعت کو سرسبزی نہیں آئے گی جبتک وہ آپس میں سثی ہمدردی نہ کریں۔جو پوری طاقت دی گئی ہے۔وہ کمزور سے محبت کرے۔میں جو یہ سنتا ہوں کہ کوئی کسی کی لغزش دیکھتا ہے،تو وہ اس سے اخلاق سے پیش نہیں آتا ،بلکہ نفرت اور کراہت سے پیش آتا ہے؛حالانکہ چاہیے تو یہ کہ اس کے لیے دعا کرے۔محبت کرے اور اُسے نرمی اور اخلاق سے سمجھائے۔مگر بجائے اس کے کینہ میں زیادہ ہوتا