پیش آنا چاہیے؛ البتہ وہ شخص جو سلسلہ عالیہ یعنی دین اسلام سے علابیہ باہر ہو گیا ہے اور وہ گالیاں نکالتا اور خطرباک دشمنی کرتا ہے۔اس کا معاملہ اور ہے۔جیسے صحابہ کو مشکلات پیش آئے اور اسلام کی توہین انہوں نے اپنے بعض رشتہ داروں سے سنی۔تو پھر باوجود تعلقات شدیدہ کے ا۲ن کو اسلام مقدم کرنا پڑا۔اور ایسے واقعات پیش آئے۔جن میں باپ نے بیٹے کو یا بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا۔اس لیے ضروری ہے کہ مراتب کا لحاظ رکھا جاوے۔ گر حفظِ مراتب نکنی زندیقی ایک شخص ہے جو اسلام کا سخت دشمن ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے وہ اس قابل ہے کہ اُس سے بیزاری اور نفرت ظاہر کی جاوے۔لیکن اگر کوئی شخص اس قسم کا ہو کہ وہ اپنے اعمال میں سست ہے تو وہ اس قابل ہے کہ اس کے قصور سے درگذر کیا جاوے اور اس سے ان تعلقات پر زَد نہ پڑے جو وہ رکھتا ہے۔ جو لوگ بالجبر دشمن ہو گئے ہیں اُن سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوستی نہیں کی بلکہ ابو جہل کا سر کٹنے پر سجدہ کیا۔لیکن جو دوسرے عزیز تھے۔جیسے امیر حمزہ جن پر ایک وحشی نے حربہ چلایا تھا۔تو باوجودیکہ وہ مسلمان تھا۔آپؐ نے فرمایا کہ میری نظر سے الگ چلا جا،کیونکہ وہ قصہ آپؐ کو یاد آگیا۔اس طرح پر دوست دشمن میں پوری تمیز کر لینی چاہیے اور پھر اُن سے علیٰ قدر مراتب نیکی کرنی چاہیے۔ کمزور بھائیوں کا بار اٹھائو اصل بات یہ ہے کہ اندرونی طور پر ساری جماعت ایک درجہ پر نہیں ہوئی۔کیا ساری گندم تخمریزی سے ایک ہی طرح نکل آتی ہے۔بہت سے دانے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ضائع ہو جاتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو چڑیاں کھا جاتی ہیں۔بعض کسی اور طرح قابلِ ثمر نہیں رہتے۔غرض اُن میں سے جو ہو نہار ہوتے ہیں اُن کو کوئی ضائع نہیں کر سکتا ۔خدا تعالیٰ کے لیے جو جماعت تیار ہوتی ہے وہ بھی کزرع ہوتی ہے۔اسی لیے اس اصول پر ا۲س کی ترقی ضروری ہے۔پس یہ دستور ہونا چاہیے کہ کمزور بھائیوں کی مدد کی جاوے اور ان کو طاقت دی جاوے۔یہ کس قدر نامناسب بات ہے کہ دو بھائی ہیں ۔ایک تیرنا جانتا ہے اور دوسرا نہیں۔تو کیا پہیل کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ دوسرے کو ڈوبنے سے بچاوے یا اس کو ڈوبنے دے۔ا۲س کا فرض ہے کہ اس کو غرق ہونے سے بچائے۔اسی لیے قرآن شریف میں آیا ہے۔ تعاونو ا علی البر و التقوٰی (المائدہ :۳) کمزور بھائیوں کا بار اُٹھائو۔عملی ایمانی اور مالی کمزوریوں