کر کے تو کچھ بگاڑ نہیں سکتے،کیونکہ اﷲ تعالیٰ خود اپنی تائید کر رہا ہے۔پر نالہ کا پانی تو ایک اینٹ سے بند کر سکتے ہیں،مگر آسمان کا کون بند کر سکتا ہے۔یہ خدا کے کام ہیں۔چراغ کو تو پھونک مار کر بجھادیتے ہیں۔مگر چاند سورج کو تو کوئی پھونک مار کر بجھاوے۔خدا کے کام اونچے ہیں۔انسان کی وہاں پیش رفت نہیں جاتی۔وہاں نہ غبارہ جاوے اور نہ ریل۔یہ بھی عظمتِ الٰہی ہے۔تعالیٰ سانہٗ کا مصداق ہے۔آسمانی امور اونچے ہیں۔وہ تو آگے ہی آگے جاتے ہیں۔ عذاب سے متعلق خدا تعالیٰ کی سنت ایک شخص نے عرض کی کہ حضور میرے گائوں سے آٹھ آدمیوں نے خط بھیجا ہے کہ اگر سچے ہو تو ہم پرعذاب نازل ہو جاوے۔فرمایا : خدا تعالیٰ کے کام میں جلدی نہیں ہوتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے دکھ دئیے گئے اور بعض ایسے بیباک اور شریر تھے جو کہتے تھے کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر پتھر برسیں۔مگر اسی وقت تو اُن پر پتھر نہ برسے۔خدا تعالیٰ کی سنت یہ نہیں کہ اسی وقت عذاب نازل کرے۔اگر کوئی خدا تعالیٰ کو گالیاں دے توکیا اسی وقت اس پر عذاب آجاوے گا۔عذات اپنے وقت پر آتا ہے جبکہ جرم ثابت ہو جاتا ہے۔لیکھرام ایک آریہ تھا جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت گالیاں دیا کرتا تھا۔آخر خدا تعالیٰ نے اس کی شرارتوں اور شوخیوں کے بدلے اس کو سزادی۔ارو وہی زبان چھری ہو کر اس کی ہلاکت کا باعث ہوئی جس سے وہ ٹکڑے کیا گیا۔پس خدا تعالیٰ کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ اُسی وقت عذاب دے ۔یہ لوگ کیسے بیوقوف اور بدقسمت ہوتے ہیں۔عذاب مانگتے ہیں۔ہدایت نہیں مانگتے۔ خدا کے نزدیک قومیت کا لحاظ نہیں اسی شخص نے کہا کہ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ سید ہو کر امتی کی بیعت کرتے ہو؟ فرمایا : خدا تعالیٰ نا محض جسم سے راضی ہوتا ہے نہ قوم سے۔اس کی نظر ہمیشہ تقویٰ پر ہے۔ انا اکر مکم عند اللہ اتقکم (الحجرات : ۱۴) یعنی اﷲ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے زیادہ بزرگی رکھنے والا وہی ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہو۔یہ بالکل جھوٹی باتیں ہیں۔کہ میں سید ہوں یا مغل ہوں یا پٹھان اور شیخ ہوں۔اگر بڑی قومیت پر فخر کرتا ہے تو یہ فخر فضول ہے۔مرنے کے بعد سب قومیں جاتی رہتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور قومیت پر کوئی نظر نہیں اور کوئی شخص محض اعلیٰ خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے نجات نہیں پاسکتا۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ کو کہا ہے کہ اے فاطمہؓ تُو اس بات پر ناز نہ کر کہ تو پیغمبر زادی ہے۔خدا کے نزدیک قومیت کا لحاظ نہیں۔وہاں جو مدارج ملتے ہیں وہ تقویٰ