۱۹؍اگست ۱۹۰۲ء
(کی شام)
دلائل صداقت
متقی کا منہ تو ایسے بند ہوتا ہے جیسے منہ میں روڑے ڈالے ہوئے ہوں۔متقی کبھی کفر کا دائرہ وسیع کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ ایمان کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے۔ان مخالف مولویوں کی نسبت میرا یہ عقیدہ تھا کہ ان میں صفائی نہیں ہے۔اور ملونی سے ضرور بھرے ہوئے ہیں۔مگر یہ میرے وہم و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ان سے یہ کمینہ پن ظاہر ہوگا۔جو انہوں نے اب میری مخالفت میں ظاہر کیا ہے۔
چونکہ عمر گذرتی جاتی ہے جیسے برف ڈھلتی ہے اس لیے ہر روز یہ خیال آتا ہے کہ کوئی آدمی ایسا ہو جو اُن کے پاس جاوے اور اُن کو فیصلہ کی راہ پر لاوے اور بتائے کہ ایک وہ وقت تھا کہ اﷲ تعالیٰ میری دعا کی نقل فرماتا ہے۔
تب لا تذرنی فر دا (الانبیاء : ۹۰)
اور
رب ارنی کیف تحی الموتی (البقرہ : ۲۶۱)
وہ زمانہ کہاں کہ دو آدمی ثابت کرنے مشکل ہیں۔اور یا اب یہ زمانہ ہے کہ فوجوں کی فوجیں آرہی ہیں۔ڈبل ازوقت کہ جیسا کہا تھا وہ کر دیا اور کر رہا ہے اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔اگر کوئی سمجھنے والا ہو تو اُسے معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا نے اپنی سنت قدیمہ کے موافق کیا اور جس طرح رسل آتے ہیں وہ اسی طرح پہچانے جاتے ہیں۔مجھے ان ہی آثار اور نشانات کے ساتھ شناخت کرو جو خدا کی طرف سے آتے ہیں۔وہ خدا کی محکم ہدایات کے خلاف نہیں کرتے۔ایسا نہیں کہ حرام کو حلال یا حلال کو حرام کر دیں۔دوسرے وہ ایسے وقت میں آتے ہیں۔کہ وہ ضرورت کا وقت ہوتا ہے۔تیسرے یہ کہ تائیدِ الٰہی کے بدوں نہیں ہوتے۔صریح نظر آتا ہے کہ خدا تائید کرتا ہے۔
سچائی معلوم کرنے کی تین راہیں
جہانتک میں خیال کرتا ہوں۔سچائی کے تین ہی راہ ہیں۔اوّل نصوص قرآنیہ و حدیثیہ۔دوسرے عقل اور تیسرے خدا تعالیٰ کے تائیدات۔ان تینوں ذریعوں سے جو چاہے ہم سے ثبوت لے،مگر انسان بن کر نہ سفلہ پن کی طرح ۔ہم سب کو دعوت دیتے ہیں خواہ سو روپیہ روز خرچ ہو جاوے۔آکر آدمیت سے پوچھ لیں۔اب دور بیٹھے ہیں۔نہ کتاب ہے۔نہ غور ہے۔نہ فکر ہے۔سفلہ لوگوں کی طرح بلکہ ان سے بھی بد تر کام کرتے ہیں۔یہ طریق تو تقویٰ کے خلاف ہے۔اگر کوئی انسان ایسا ہو جو اُن پر رعب داب رکھتا ہو وہ انہیں جا کر سمجھائے۔دنیا دار لوگ اگر اُن کو کہیں تو اُن سے ڈرتے ہیں۔خدا کرے کہ کوئی ایسا دنیا دار ہو جس کو اس طرف توجہ ہو اور ان کو سمجھئے اور یہی خیال کرے۔کہ اسلام میں پھوٹ پڑ رہی ہے۔اس کو ہی دور کیا ہاوے۔غرض ہم تو چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ لوگ راہ پر آویں۔اور ہماری مخالفت