کے لحاظ سے ملتے ہیں۔یہ قومیں اور قبائل دنیا کا عرف اور انتظام ہیں۔خدا تعالیٰ سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ ہی مدارجِ عالیہ کا باعث ہوتا ہے۔اگر کوئی سید ہو اور وہ عیسائی ہو کر رسول اﷲ ﷺکو گالیاں دے اور خدا کے احکام کی بیحرمتی کرے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس کو آلِ رسولؐ ہونے کی وجہ سے نجات دے گا اور وہ بہشت میں داخل ہو جاوے گا۔
ان الدین عند اللہ الاسلام (آلِ عمران : ۲۰)
اﷲ تعالیٰ کے نزدیک تو سچا دین جو نجات کا باعث ہوتا ہے۔اسلام ہے۔اگر کوئی عیسائی ہو جاوے یا یہودی ہو۔یا آریہ ہو وہ خدا کے نزدیک عزت پانے کے لائق نہیں۔خدا تعالیٰ نے ذاتوں اور قوموں کو اڑادیا ہے۔یہ دنیا کے انتظام اور عرف کے لئے قبائل ہیں۔مگر ہم نے خوب غور کر لیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور جو مدارج ملتے ہیں ان کا اصل باعث تقویٰ ہی ہے جو متقی ہے وہ جبت میں جائے گا۔خدا تعالیٰ اس کے لیے فیصلہ کر چکا ہے۔خدا تعالیٰ کے نزدیک معزز متقی ہی ہے۔پھر یہ جو فرمایا
انما یتقبل اللہ من المتقین (المائدہ : ۲۸)
کہ اعمال اور دعائیں متقیوں کی قبول ہوتی ہیں۔یہ نہیں کہا کہ من اسیدین۔پھر متقی کے لیے تو فرمایا
من یتق اﷲ یجعل لہ مخرجا ویر زقہ من حیث لا یحتسب (الطلاق : ۳-۴)
یعنی متقی کو ہر تنگی سے نجات ملتی ہے۔اس کو ایسی جگہ سے رزق دیا جاتا ہے کہ اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔اب بتائو کہ یہ وعدہ سیدوں سے ہوا ہے یا متقیوں سے۔اور پھر یہ فرمایا کہ متقی ہی اﷲ تعالیٰ کے ولی ہوتے ہیں۔یہ وعدہ بھی سیدوں سے نہیں ہوا۔ولایت سے بڑھ کر اور کیا رتبہ ہوگا۔یہ بھی متقی ہی کو ملا ہے۔بعض نے ولایت کو نبوت سے فضیلت دی ہے اور کہا ہے کہ نبی کی ولایت اس کی نبوت سے بڑھ کر ہے۔نبی کا وجود دراصل دو چیزوں سے مرکّب ہوتا ہے۔نبوّت اور ولایت۔نبوت کے ذریعہ وہ احکام اور شائع مخلوق کو دیتا ہے۔اور ولایت اس کے تعلقات کو خدا سے قائم کرتے ہے۔
پھر فرمایا ہے
ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین (البقرہ : ۳)
ھدی للسیدین نہیں کہا۔غرض خدا تعالیٰ تقویٰ چاہتا ہے۔ہاں سید زیادہ محتاج ہیں۔کہ وہ اس طرف آئیں کیونکہ وہ متقی کی اولاد ہیں۔اس لیے ان کا فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے آئیں نہ کہ خدا تعالیٰ سے لڑیں کہ یہ سادات کا حق تھا۔وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔
ذلک فضل اﷲ یئو تیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم (الجمعۃ :۵)
یہ ایسی بات ہے کہ جیسے یہودی کہتے ہیں کہ بنی اسمٰعیل کو نبوت کیوں ملی۔وہ نہیں جانتے ۔
تلک الایا م ندا ولھا بین الناس (آل عمران : ۱۴۱)
خدا تعالیٰ سے اگر کوئی مقابلہ کرتا ہے ۔تو وہ مردود