رشتہ دار سب سے الگ ہونا پڑتا تھا۔حضرت عمر رضیاﷲ عنہ ابو جہل کے ساتھ اسلام سے پہلے ملتے تھے۔بلکہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ابو جہل نے منصوبہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جاوے اور کچھ روپیہ بھی بطور انعام مقرر کیا۔حضرت عمر اس کام کے لیے منتخب ہوئے؛چنانچہ انہوں نے اپنی تلوار کو تیز کیا اور موقع کی تلاش میں رہے۔آخر حضرت عمر کو پتہ ملا کہ آدھی رات کو آپ کعبہ میں آکر نماز پڑھتے ہیں۔چنانچہ یہ کعبہ میں آکر چھپ رہے۔اور اُنہوں نے سنا کہ جنگل کی طرف سے لاالہ الا اللہ کی آواز آتی ہے اور وہ آواز قریب آتی گئے۔یہاں تک کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں آ داخل ہوئے اور آپؐ نے نماز پڑھی۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ آپؐ نے سجدہ میں اس قدر منا جات کی کہ مجھے تلوار چلانے کی جرأت نہ رہی؛چنانچہ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ آگے آگے چلے۔پیچھے پیچھے میں تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پائوں کی آہٹ معلوم ہوئے اور آپؐ نے پوچھا کون ہے۔میں نے کہا کہ عمر۔اس پر آپؐ نے فرمایا۔اے عمر! نہ تو دن کو میرا پیچھا چھوڑتا ہے اور نہ رات کو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے محسوس کیا کہ آپؐ بددعا کریں گے۔اس لیے میں نے کہا کہ حضرت آج کے بعد میں آپؐ کو ایذانہ دوں گا۔عربوں میں چونکہ وعدہ کا لحاظ بہت بڑا ہوتا تھا۔اس لیے آنحضرتؐ نے یقین کر لیا،مگر دراصل حضرت عمر کا وقت آپہنچا تھا۔آنحضرتؐ کے دل میں گذرا کہ اس کو خدا ضائع نہیں کرے گا؛چنانچہ حضرت عمر مسلمان ہوئے اور پھر وہ دوستیاں وہ تعلقات جو ابو جہل اور دوسرے مخالفوں سے تھے یکلخت ٹوٹ گئے اور ان کی جگہ ایک تہی اخوت قائم ہوئی۔حضرت ابو بکرؓ اور دوسرے صحابہ ملے اور پھر ان پہلے تعلقات کی طرف کبھی خیال تک نہ آیا۔ غرض اس سلسلہ میں جو ابتلائوں کا سلسلہ ہوتا ہے۔بہت سی ٹھو کریں کھانی پڑتی ہیں اور بہت سی موتوں کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ہم قبول کرتے ہیں کہ ان انسانوں میں جو اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں۔ان میں بعض بزدل بھی ہوتے ہیں۔شجاع بھی ہوتے ہیں۔بعض ایسے بزدل ہوتے ہیں کہ صرف قوم کی کثرت کو دیکھ کر ہی الگ ہو جاتے ہیں۔انسان بات کو تو پُورا کر لیتا ہے۔مگر ابتلاء کے سامنے ٹھہرنا مشکل ہے۔خدا وند تعالیٰ فرماتا ہے۔ احسب الناس ان یتر کو اانیقولو اامنا وھم لا یفتنون (العنکبوت : ۳) یعنی کیا لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ایمان لائیں اور امتحان نہ ہو۔غرض امتحان نہ ہو۔غرض امتحان ضروری شے ہے۔اس سلسلہ میں جو داخل ہوتا ہے وہ ابتلا سے خالی نہیں رہ سکتا۔ہمارے بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ وہ ایک طرف ہیں اور باپ الگ۔؎ٰ