سے ثابت ہے اور ایسا ہی پہلی کتابوں سے بھی پایا جاتا ہے کہ والدین کی بدکاریاں بچوں پر بھی بعض وقت آفت لاتی ہیں۔اسی کی طرف اشارہ ہے ولا یخاف عقبہا (الشمس : ۱۶) جو لوگ لا اُبالی زندگی بسر کرتے ہیں اﷲ تعالیٰ ان کی طرف سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔دیکھو دنیا میں جو اپنے آقا کو چند روز سلام نا کرے تو اس کی نظر بگڑ جاتی ہے۔تو جو خدا سے قطع کرے پھر خدا اس کی پرواہ کیوں کرے گا۔اسی پر وہ فرماتا ہے کہ وہ اُن کو ہلاک کر کے اُن کی اولاد کی بھی پروا نہیں کرتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو متقی صالح مر جاوے اس کی اولد کی پروا کرتا ہے۔جیسا کہ ا س آیت سے بھی پتہ لگتا ہے۔ وکان ابو ھما صالحا۔ (الکہف : ۸۳) اس باپ کی نیکی اور صلاحیت کے لیے خضر اور موسیٰ جیسے الوالعزم پیغمبر کو مزدور بنا دیا کہ وہ ان کی دیواردرست کردیں۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا۔خدا تعالیٰ نے لڑکوں کا ذکر نہیں کیا چونکہ ستّار ہے۔اس لیے پر دہ پوشی کے لحاظ سے اور باپ کے محل مدح میں ذکر ہونے کی وجہ سے کوئی ذکر نہیں کیا۔ پہلی کتابوں میں بھی اس قسم کا مضمون آیا ہے۔کہ سات پشت تک رعایت رکھتا ہوں۔حضرت دائود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی متقی کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔غرض نشاط خدا رزق ہے جو غیر کو نہیں ملتا۔؎ٰ ۱۸؍اگست ۱۹۰۲ء؁ (کی شام) بیعت کی حقیقت مرزا اعظم بیگ کے پوتے مرزا احسن بیگ نے بیعت کی درخواست کی۔اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : بیعت اگلے جمعہ کو کر لینا،مگر یہ یاد رکھو کہ بیعت کے بعد تبدیلی کرنی ضروری ہوتی ہے۔اگر بیعت کے بعد اپنی حالت میں تبدیلی نہ کی جاوے۔تو پھر یہ استخفاف ہے۔بیعت بازیچئہ اطفال نہیں ہے۔درحقیقت وہی بیعت کرتا ہے،جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ہر ایک امر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔پہلے تعلقات معدوم ہو کر نئے تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔جب صحابہؓ مسلمان ہوتے تو بعض کو ایسے امور پیش آتے تھے کہ احباب