رنج آگیا۔تو بچوں کی طرح چلا اٹھے۔اب ہم کس کا نام لے سکتے ہیں کہ اس پر حوادث نہ آئیں اور متعلقین کو رنج نہ پہنچے؟ کسی کا نام نہیں لے سکتے۔یہ بہشتی زندگی کس کی ہو سکتی ہے۔پرف اُس شخص کی جس پر خدا کا فضل ہو۔ بہشتی زندگی اس لیے یہ بڑی غلطی ہے جو یونہی کسی کے سفید کپڑے دیکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ وہ بہشتی زندگی رکھتے ہیں۔اُن سے جا کر پوچھو تو معلوم ہو کہ کتنی بلائیں سناتے ہیں۔صرف کپڑے دیکھ کر یا بگھیوں پر سوار ہوتے دیکھ کر شراب پیتے دیکھ کر ایسا خیال کر لینا گلط ہے۔ماسوا اس کے اباحتی زندگی بجائے خود جہنم ہے۔کوئی ادب اور تعلق خدا سے نہیں۔اس سے بڑھ کر جہنمی زندگی کیا ہوگی۔کتا خواہ مردار کھالے خواہ بدکاری کرے۔کیا وہ بہشتی زندگی ہوگی؟اسی طرح پر جو شخص مردار کھاتا ہے اور بدکاریوں میں مبتلا ہے۔حرام و حلال کے مال کو نہیں سمجھتا۔یہ لعنتی زندگی ہے۔اس کو بہشتی زندگی سے کیا تعلق۔ یہ سچ ہے ۔کہ بہشتی زندگی یہی ہوتی ہے،مگر اُن کی جن کو خدا پر پورا بھروسہ ہوتا ہے۔اس لیے وہ ھو یتولی الصالحین (الاعراف :۱۹۷) کے وعدہ کے موافق خدا تعالیٰ کی حفاظت اور تولّی کے نیچے ہوتے ہیں۔اور جو خدا تعالیٰ سے دور ہے۔اس کا ہر دن ترسال ولرزاں،ہی گذرتا ہے۔وہ خوش نہیں ہو سکتا۔سیالکوٹ میں ایک شخص رشوت لیا کرتا تھا۔وہ کہا کرتا تھا کہ میں ہر وقت زنجیر ہی دیکھتا ہوں۔بات یہ ہے کہ برے کام کا انجام بد ہی ہونا چاہیے۔اس لیے بدی ایسی چیز ہے کہ روح اس پر راضی ہو ہی نہیں سکتی۔پھر بدی میں لذت کہاں۔ہر برے کام پر آخر دل پر ٹھوکر لگتی ہے اور ایک کثافت انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ کیا حماقت کی اور اپنے اوپر لعنت کرتا ہے۔ایک شخص نے تو بارہ آنے کے عوض میں ایک بچہ مار دیا تھا۔ غرض زندگی بجز اس کے کوئی نہیں کہ بدی سے بچے اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔کیونکہ مصیبت سے پہلے جو خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔مصیبت کے وقت خدا اس کی مدد کرتا ہے۔جو پہلے سویا ہوا ہے وہ مصیبت کے وقت ہلاک ہو جاتا ہے۔حافظ نے کیا اچھا کہا ہے۔شعر خیال زلف تو جستن نہ کار خاماں است کہ زیرِ سلسلہ رفتن طریق عیاری است خدا تعالیٰ غنی ہے۔بیکار نیز و غیرہ میں جو قحط پڑے،تو لوگ بچوں تک کو کھا گئے۔یہ اسی لیے ہوا کہ وہ کسی کے ہو کر نہیں رہے۔خدا کے ہو کر رہتے تو بچوں پر یہ بلا نہ آتی۔حدیچ شریف اور قرآن مجید