کیا امید ہو سکتی ہے۔اور امید ہی تو ایک چیز ہے جس سے بہشتی زندگی شروع ہوتی ہے۔ ان مہذّب ممالک میں اس قدر خود کشیاں ہوتی ہیں کہ جن سے پایا جاتا ہے کہ کوئی راحت نہیں۔ذرا راحت کا میدان گم ہوا اور جھٹ خود کشی کر لی، لیکن جو تقویٰ رکھتا ہے اور خدا سے تعلق رکھتا ہے اُسے وہ جا ودانی خوشی حاصل ہے جو ایمان سے آتی ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں معرض تغیر وتبدل میں ہیں۔مختلف آفات آتی رہتی ہیں۔بیماریاں حملے کرتی ہیں۔کبھی بثے مر جاتے ہیں۔غرض کوئی نہ کوئی دکھ یا تکلیف رہتی ہے۔اور دنیا جائے آفات ہے۔اور یہ امرو سکھ کی نیند انسان کو سونے نہیں دیتے۔جس قدر تعلقات وسیع ہوتے ہیں،اسی قدر آفتوں اور مصیبتوں کا میدان وسیع ہوتا ہے اور یہ آفتیں اور بلائیں انسان کے منزلی تعلقات میں ایک غم کو پچاس بنا دیتی ہیں۔کیونکہ اگر اکیلا ہو تو غم کم ہو۔مگر جب بچے،بیوی،ماں باپ،بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار رکھتا ہے۔تو پھر ذرا سی تکلیف ہوئی اور یہ آفت میں پڑا۔اس قدر مجموعہ کے ساتھ تو اُس وقت راحت ہو سکتی ہے۔جب کسی کو کوئی بیماری اور آفت نہ ہو اور کوئی تکلیف میں نہ ہو۔ صرف مال موجبِ راحت نہیں ہے یہ بات بھی غلط ہے کہ مال سے راحت ہو۔نرے مال سے راحت نہیں ہے۔اگر مال ہے صحت اچھی نہیں۔مثلاًمعدہ خراب ہے۔تو وہ کیا بہشتی زندگی ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ مال بھی راحت کا باعث نہیں۔سچی بات یہی ہے کہ جو خدا سے تعلق رکھتا ہے۔وہی ہر پہلو سے بہشتی زندگی رکھتا ہے۔کیونکہ اﷲ قادر ہے کہ وہ بلائیں اور آفتیں نہ آئیں اور مالی اضطرار بھی نہ ہو۔یا آئیں تو دل میں ایسی قوت اور ہمت بخش د یکہ وہ اُن کا پورا مقابلہ کر سکے۔ جس قدر پہلو انسان کی عافیت کے لیے ضروری ہے وہ کسی بادشاہ کیلئے بھی باتھ میں نہین ہیں بلکہ وہ سب ایک ہی کے ہاتھ میں ہے جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔جسے چاہے دیدے۔ بعض لوگ اس قسم کے دیکھے گئے ہیں کہ روپیہ پیسہ سب کچھ موجود ہیں۔مگر مسلُول مدقُوق ہو جاتے ہیں۔اور زندگی انہیں تلخ معلوم ہوتی ہے۔پس ان کروڑوں آفات کا جو انسان کو لگی ہوئی ہیں۔کون بندوبست کر سکتا ہے۔اور اگر رنج بھی ہو تو صبر جمیل کون دے سکتا ہے؟ اﷲ ہی ہے جو عطا کرے۔ صبر بھی بڑی چیز ہے۔ جو بڑی بڑی آفتوں اور مصیبتوں کے وقت بھی غم کو پاس نہیں آنے دیتا۔بعض امیر ایسے ہوتے ہیں کہ عافیت اور راحت کے زمانہ میں بڑے مغرور اور متکبر ہوتے ہیں اور ذرا