وہاں جا کر دیکھتے ہیں کہ بڑی آزادی ہے۔شراب خوری کی اس قدر کثرت ہے کہ ساٹھ میل تک شراب کی دکاتیں چلی جاتی ہیں۔زنا اور غیر زنا میں کوئی فرق ہی نہیں۔کیا یہ بہشت ہے؟ بہشت سے یہ مراد نہیں ہے۔دیکھو۔انسان کی بھی بیوی ہے اور وہ تعلقات زوجیت رکھتا ہے اور پرندوں اور حیوانوں میں بھی یہ تعلقات ہوتے ہیں،مگر انسان کو اﷲ تعالیٰ نے ایک نظافت اور ادراک بخشا ہے۔انسان جن حواس اور قویٰ کے ساتھ آیا ہے۔اُن کے ساتھ وہ ان تعلقات زوجیت میں زیادہ لطف اور سرور حاصل کرتا ہے۔بمقابلہ حیوابات کے جو ایسے حواس اور ادراک نہیں رکھتے ہیں۔اور اسی لیے وہ اپنے جوڑے کی کوئی رعایت نہیں رکھتے جیسے کتے۔
پس اگر انسان حواس کے ساتھ سرور حاصل نہیں کر سکتے بلکہ حیوانات کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں پھر اُن میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہوا۔یہ جو فرمایا ہے۔کہ مومن کے لیے ہی جنت ہے۔یہ اس لیے فرمایا ہے۔کہ سچی راحت دنیا کی لذات سے تب پیدا ہوتی ہے جب تقویٰ ساتھ ہو۔جو تقویٰ کو چھوڑ دیتا ہے اور حلال و حرام کی قید کو اُٹھا دیتا ہے وہ تو اپنے مقام سے نیچے گر جاتا ہے اور حیوانی درجہ میں آجاتا ہے۔
لندن میں جب ہائیڈ پارک میں حیوانوں کی طرح بدکاریاں ہوتی ہیں اور کوئی شرم و حیا ایک دوسرے سے نہیں کیا جاتا۔تو پھر ایک شخص انسانیت کو ضبط رکھ کر دیکھے تو ایسی بہشت اور راحت سے ہزار توبہ کرے گا کہ ایسی دیُّوث اور بے غیرت جماعت سے خدا بچائے۔ایسی جماعت کو جو ایسی زندگی بسر کرتی ہے بہشت میں سمجھنا حماقت ہے۔اصل یہی ہے کہ بہشت کی کلید تقویٰ ہے۔جس کو خدا تعالیٰ پر بھروسہ نہیں اُسے سچی راحت کیونکر مل سکتی ہے۔بعض آدمی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ جن کو خدا پر بھروسہ نہیں اور ان کے پاس روپیہ تھا وہ چوری چلا گیا۔اس کے ساتھ ہی زبان بند ہو گئے۔اور اُن (کفار) کو جو بہشت میں کہا جاتا ہے۔اُن کی خود کشیوں کو دیکھو کہ کس قدر کثرت سے ہوتی ہیں۔تھوڑی تھوڑی باتوں پر خود کشی کر لیتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایسے ضعیف القلب اور پست ہمت ہوتے ہیں کہ غم کی برداشت ان میں نہیں ہے۔جس کو غم کی برداشت اور مصیبت کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔اس کے پاس راحت کا سامن بھی نہیں ہے۔خواہ ہم ا سکو سمجھا سکیں یا نہ سمجھا سکیں اور کوئی سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے۔حقیقت الامر یہی ہے کہ لذائذ کا مزہ صرف تقویٰ ہی سے آتا ہے۔جو متقی ہوتا ہے اس کے دل میں راحت ہوتی ہے اور ابدی سرور ہوتا ہے۔دیکھو ایک دوست کے ساتھ تعلق ہو۔توکس قدر خوشی اور راحت ہوتی ہے،لیکن جس کا خدا سے تعلق ہو اُسے کس قدر خوشی ہو گی۔جس کا تعلق خدا سے نہیں ہے۔اُسے