نیک بخت ہوتے ہیں اور ان کا شعائرِ اسلام صحیح ہوتا ہے، مگر وہ رزق سے تنگ ہیں۔رات کو ہے تو دن کو نہیں۔اور دن کو ہے تورات کو نہیں۔ جملہ معترضہ یہاں حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے عرض کی کہ جب میں پہلے یہاں آیا۔تو حضور علامات المقربین ایک رسالہ لکھ رہے تھے۔واپسی پر گجرات ٹھہرا،تو ایک شخص نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل مرزا صاحب کیا لکھ رہے ہیں۔میں نے کہا کہ انا الا برار لفی نعیم (الانفطار : ۱۴) کی تفسیر لکھ رہے ہیں۔اس نے کہا کہ یہ کفار آرام میں نہیں؟ سارا دن بگھیاں چلتی رہتی ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ : آپ کے اس آیت کے پڑھنے سے ایک اور آیت یاد آگئی۔ و لمن خاف مقام ربہ جنتان۔(الرحمان : ۴۷) غرض یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں،مگر تجربہ دلالت کرتا ہے کہ یہ امور خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔ہمارا یہ مذہب کہ وہ وعدے جو خدا تعالیٰ نے کئے ہیں کہ متقیوں کو خود اﷲ تعالیٰ رزق دیتا ہے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے ان آیتوں میں بیان کیا ہے۔یہ سب سچے ہیں۔اور سلسلہ اہل اﷲ کی طرف دیکھا جاوے تو کوئی ابرار میں سے ایسا نہیں ہے۔کہ بھوکا مرا ہو۔مومنوں نے جن پر شہادت دی اور جن کو اتقیامان لیا گیا۔یہی نہیں کہ وہ فقروفاقہ سے بچے ہوئے تھے۔گو اعلیٰ درجہ کی خوشحالیاں نہ ہوں،مگر اس قسم کا اضطراری فقروفاقہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ عذاب محسوس کریں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقراختیار کیا ہوا تھا۔مگر آپ کی سخاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود آپؐ نے اختیار کیا ہوا تھا، نہ کہ بطور سزا تھا۔غرض اس راہ میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔بعض ایسے لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ بظاہر متقی اور صالح ہوتے ہیں مگر رزق سے تنگ ہوتے ہیں۔ان سب حالات کو دیکھ کر آخر یہی کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے تو سب سچے ہیں،لیکن انسانی کمزوری ہی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ یورپ کی پُرآسائش زندگی جنت نہیں حضرت مولانا مولوی حکیم نورالدین صاحب نے پھر ذکر کیا کہ لندن سے ایک شخص نے مجھے خط لکھا ہے کہ لندن آکر دیکھو کہ جنت عیسائیوں کو حاصل ہے یا مسلمانوں کو۔میں نے اس کا جواب لکھا کہ سچی عیسائیت مسیح اور اس کے حواریوں میں تھی اورسچا اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ میں تھا۔پس ان دونوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔اس پر حضرت حجۃ اﷲ نے بہ تسلسل کلام سابق پھرارشاد فرمایا : اِن روحانی امور میں ہر شخص کا کام نہیں ہے کہ نتیجہ نکال لے۔یہ لوگ جو لندن جاتے ہیں۔وہ