آج کی ڈائری میں ایک اور ہم نے فرد گذاشت کیا تھا ۔ اسے یہاں درج کرنے دینا قرین مصلحت معلوم ہوتاہے ۔ حضرت صاحبزادہ مبارک احمد سلمہ اللہ الاحد کے ایک کبوتر بلی نے پکڑلیا جو ذبح کر لیاگیا ۔فرمایا : اس وقت میرے دل میں تحریک جوئی ہے کہ گویا عیسائیوںکہ خداکو ہم نے ذبح کر کے کھالیا ہے ۔پھر فرمایا : انگریزبھی کبوترکاشکار کرتے ہیں ۔ اور بنی اسرائیل کی قربانیوں میں بھی شاید اس کا تذکرہ ہے وہر حال کبوتر ہمیشہ کھائے جاتے ہیں ۔ یادوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ عیسائیوں کے خداذبح ہوتے ہیں ۔ کیا یہ بھی کفارہ تو نہیں ہے ۔ ۱؎ ۱۶؍اگست ۱۹۰۲ء؁ بوقت شام رزق میں قبض و بسط حضرت جری اللہ فی حلل الانبیا ء علیہ الصلوٰۃ والسّلام بعد ادائے نماز مغرب حسب معمول حلقہ خدام میں بیٹھ گئے کسی شخص نے ایک رقعہ دیا ۔ جو دفترمیگزین میں محرر کی اسامی کے لیے سفارش و خواہشپر مشتمل تھا ۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: قبض و بسط رزق کا سرّ ایسا ہے کہ انسان کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ ایک طرف مو منوں سے اللہ تعا لیٰ نے قرآن شریف میں وعدے کئے ہیں ۔ من یتو کل علی اللہ فھو حسبہ(الطلاق:۴) یعنے جو اللہ تعالیٰ پر توکل کر تا ہے اس کے لیے اللہ کافی ہے من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا و یر زقہ من حیث لایحتسب (الطلاق(۳،۴) جو اللہ تعا لیٰ کے تقو یٰ اختیار کر تا ہے اللہ تعا لیٰ اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے کہ اس کو معلو م بھی نہیں ہو تا ۔اور پھر فر ماتا ہے ۔ وفی السماء رزقکم وما تو عدون(الذ اریات:۲۳) اور پھر اللہ تعا لیٰ اپنی ذات کی قسم کھا تا ہے کہ فو رب السما ء والارض انہ لحق(الذاریت :۲۴) آسمان اور زمین کے رب کی قسم ہیکہ یہ وعدہ سچ ہے ۔جیسا کہ تم اپنی زبان سے بو ل کر انکار نہیں کر سکتے ۔جب کہ اس قسم کے وعد ے اللہ تعا لیٰ نے فر مائے ہیں ۔پھر باوجود وعدو ں کے دیکھا جاتا ہے کہ کئی آدمی ایسے دیکھے جاتے ہیں جو صالح اور متقی اور