پھر حضرت اقدس نے ڈوئی کی تمدی پر بحث کی جو اس نے اپنے مخالفوں کے لیے کی ہے کہ میرے مخالف ہلاک ہو جائیں گے خصوصاً مسلمان حضرت حجۃ اللہ نے بڑے پُر زور اور پُر شوکت الفاظ میںلکھاہے کہ ؛ کُل مسلمانوں کو ہلاک کرنے کی ضرورت نہیں اور علاوہ ازیں یہ امر مشکوک ہوسکتاہے ۔اس کو یہ کہمے کی گنجائش ہے کہ مسلمان ہلاک تو ہوہی جائیں گے مگر پچاس یا ساٹھ کے اندر ۔ اور وہ خود اس عرصہ میں ہلاک ہوجائے گا۔پھر اس سے کون پوچھنے والاہوگا۔اس لیے بہترہے کہ سارے مسلمانوں کو چھو ڑکر میرے مقابلے میں آئے اور میںعیسائیوں کو خود ساختہ خداکی نسبت تمام مسلمانوں سے زیادہ کراہت اور نفرت رکھتا ہوں ۔ یہاں تک کہ اگر کل مسلمانوں نفرت عیسائیوں کے خداکی نسبت ترازو کا ایک پلہ میں رکھدی جاوے اور میری نفرت ایک طرف تو میرا پلہ اس سے بھاری ہوگا ۔ اور میں ایسے شخص کو جو عورت کے پیٹ سے نکل کر خدا ہونے کا دعویٰ کرے بہت ہی بڑاگناہ گار اور ناپاک انسان سمجھتاہوں ۔ مگر ہاں میرا یہ مذہب کہ مسیح ابن مریم رسُول اس الزام سے پاک ہے ۔ اس نے کبھی یہ دعویٰ نہیںکیا ۔ میں اسے اپنا ایک بھی سمجھتا ہوں ؛ اگر چہ خداتعالیٰ کافضل مجھ پر اس سے بہت زیادہ ہے ۔ اور وہ کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے اس کے کام سے بہت ہی بڑھ کر ہے۔ تاہم میں اس کو اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوںاور میں نے اسے بارہادیکھاہے ۔ ایک بار میں نے اور مسیح ؑ نے ایک ہی پیالہ میں گائے کاگوشت کھایا تھا ، اس لیے میں اور وہ ایک ہی جوہڑ کے دو ٹکڑے ہیں ۔ غرض اس طرح پر حضرت حجۃاللہ نے بلحاظ اپنے کام اور ماموریت کے اور خداتعالیٰ کے ان فضلوں اور احسانوں کہ جو حضرت مسیح موعود کے شامل مال ہیں تحدیث بالنعمت اور تبلیغ کے طور پر ذکر فرمایا اور یہاں تک کہا؛ کہ ’’میں خدا سے ہوں اور مسیح مجھ سے ہے ۔‘‘ ان امور کے پیش کرنے کے بعد آپ نے جو پُر شوکت اور تحدّی کے ساتھ اس کو مقابلہ کے لیے دعوت کی ہے ۔کہ اگر وہ سچّا ہے تو اسے چاہئیے مقابلہ کے لیے نکلے اور یہ دُعاکرے کہ ہم دونوں میںسے جو کاذب ہے وہ صادق کے سامنے ہلاک ہو یہ خلاصہ ہے کہ اس تتمہ کا جو ہم نے اپنے طور پر لکھا ہے ۔ اصل چٹھی ستمبر کے آخیر تک انشاء اللہ شائع ہوسکے گی ۔