۱۳؍ اگست ۱۹۰۲ء؁ نماز مغرب کے بعد حضرت اقدس نے کل تجویز کی تکمیل کے لیے فرمایا : مخالفین کے لیے اہم اعتراضات جمع کر لینے کا ارشاد بہت بہتر ہو کہ اگر مخالفین کی کل کتابیں جمع کر کہ اُن کہ اہم اعتراضات کو یکجا کر لیا جاوے ۔ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب نے اس چٹھی ے مضمون کا تتمہ پڑھ کر سنایا جو امریکہ کے مشہور کاذب مفتری الیاس ڈاکٹر ڈوئی کے نام کامقابلہ کے لیے لکھی گئی ہے ۔ خلاصہ تتمہ چٹھی بنام الیاس ڈاکٹر ڈوئی اس تتمہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ۔حضرت اقدس ؑ نے اس میںلکھا ہے ؛کہ صادق اور کاذب کی شناخت کامعیاروہ امر کبھی نہیںہوسکتا ۔جو مختلف قوموںمیں بطور امر مشترک ہو، مثلاًسلب امراض کا طریق ہے۔جس پرڈاکٹرڈوئی لاف زنی کیا کرتا ہے کہ فلاں شخص اچھاہوگیا کہ۔اور فلاں نے صحت پائی ۔یہ طریق اس قسم کا ہے کہ اس کے لیے راستبازاور متقی ہونے کی بھی ضرورت نہیں ۔ چہ جائیکہ یہ کسی کے مامور ہونے پر گواہ ہوسکے ،کیونکہ سلب امراض کا طریق ہندوؤںیہودیوں عیسائیوں میںیکساں پایا جاتا ہے اورمسلمانوں میں بھی بعض لوگ اس قسم کے پائے جاتے ہیں ۔حضرت مسیحؑ جب امراض سلب کے معجزات دکھاتے تھے ۔ اس وقت بعض یہودی بھی اسقسم کے کام کرتے تھے اور ایک تالاب بھی ایساتھا جس میں غسل کرنے سے بعض مریض اچھّے ہوجاتے تھے ۔ غرض حضرت حجۃاللہ نے پہلے اس میںظاہر کیا کہ جو امر مختلف قوموں میں مشترک ہے اور جس کے لیے نیک و بد کی کوئی تمیز نہیں ۔صادق اور کاذب کی شناخت کامعیار نہیںہوسکتا ۔پھر اس امر پر بحث کی ہے کہ ؛ اس کی ایک صورت ہے کہ کچھ بیمار لے کر بطور قرعہ اندازی صادق اور کاذب کو تقسیم کردئیے جائیں ایسی صورت میں صادق کے حصّہ بلمقابلہ کاذب زیادہ اچھّے ہوں۔ اس امرکی بیان میں یہ بھی ظاہرہے کہ اس طریق کو اپنے ملک میں اپنے مخالفوںکے سامنے میں نے پیش کیا ہے ، مگر کوئی مقابلہ کے لیے نہ آیا ۔