مولوی محمد حسین صاحب کے متعلق حضرت اقدس کا ایک پرانا خواب
اسکے بعد حضرت اقدس نے اپنا پراناخواب مولوی محمد حسین صاحب کے متعلق بیان فرمایا ۔جو کہ کتاب سراج منیر کے آخر میں درج ہے فرمایا کہ :
یہ بات ۹۴ء یا ۹۵ء کی ہے جب ہم نے یہ رؤیاء دیکھا تھا کہ ہم نے جماعت کرائی ہے اور نماز عصر کا وقت ہے اور ہم نے قرأت پہلے بلند آواز سے کی ہے پھر ہم کو یاد آیا اور اس کے بعد ہم نے محمد حسین سے کہا کہ ہم خدا کے سامنے جائیں گے ہم چاہتے ہیں ہر بات میں صفائی ہو اگر ہم نے آپ کے متعلق کچھ سخت الفاظ کہے ہوں تو آپ معا ف کردیں ۔ا س نے کہا کہ میں کرتاہوں ۔پھر ہم نے کہا کہ ہم بھی معاف کرتے ہیں ۔ پھر ہم نے دعوت کی اور اسنے عذر ِخفیف کے ساتھ اس دعوت کو قبول کرلیا ۔اور ایک شخص سلطان بیگ نام چبوترہ پر قریب الموت تھا ج۔اور ہم نے کہا کہ ایسا ہی مقدر تھا ۔کہ اس مرنے کے وقت یہ واقعہ ہوا اور ایسا ہی مقدر تھا ۔کہ بہائوالدین کے مرنیکے وقت یہ بات ہو ۔
اس خواب کے بعد فرمایا :
واللہ اعلم بالصواب
خواب میںتعنیات شخصیہ ضروری نہیں ۔
پھر حضرت اقدس ؑ نے مولوی حسین صاحب کے ان دنوں کی حالت کا ذکر کیا ۔جب و ہ بات بات میںخاکساری دکھلاتے تھے اور قدم قدم پر اخلاص ر کھتے تھے اور جوتے اُٹھاکر جھاڑکر رکھتے تھے اور وضوکراتے تھے ۔اور کہتے تھے کہ میں مولویت کو نہیں چاہتا ج۔مجھے اجازت دو ت ومیں قادیان میں آرہاہوں اور فرمایا:کہ
کسی وقت کا خلاص اور خدمت انسان کے کام آجاتاہے ۔ شاید ان وقتوں کاا خلاص ہی ہو جو بالاآخرمولو ی محمد حسین صاحب کو اس سلسلہ کی طرف رجوع کرنے کی توفیقدے ،کیونکہ وہ بہت ٹھوکریں کھاچکے ہیں ۔اورآخر دیکھ چکے ہیں کہ خد ا کے کاموں میں کوئی حارج نہیںہوسکتا ۔فرمایا:کہ
ایساہی اجتہادی طور پر ہمیں بعض لوگوں پر بھی حُسن ظن ہے کہ وہ کسی وقت رجوع کریں ج۔کیونکہ ایک دفعہ الہام ہو اتھا کہ ۔
’’لاہور میں ہمارے پاک محب ہیں ۔وسوسہ پڑگیا ہے ۔پر مٹی
نظیف ہے ۔ وسوسہ نہیں رہے گا ۔ مٹی رہے گی ۔‘‘
اس کے بعد چند مختلف باتیں ہو کر نماز عشاء ادا کی گئی ۔