مولوی چکڑالوی کہتا ہے کہ حدیث کی کچھ ضرورت نہیں بلکہ حدیث کا پڑھنا ایسا ہے ، جیسے کُتّے کاہڈی کا چسکا ہوسکتاہے اور رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ قرآن لانے میں اس سے بڑھ کر نہیں جیساکہ ایک چپڑاسی یا مذکو ری کا درجہ پروانہ سرکاری لانے میں ہو تا ہے ۔ حضرت اقدس مسیح مو عو دؑ نے فرمایا : ایسا کہنا کفر ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بے ادبی کرتاہے ۔احادیث ایسی ہقارت سے نہیں دیکھنا چاہئیے۔کفّار تو اپنے جنتر منتر کو یاد رکھتے ہیں ۔تو کیا مسلمانوں نے اپنے رسولؐ کی باتوںکو یاد نہ رکھا ۔ قرآن شریف کے پہلے سمجھنے والے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور اس پر آپؐ عمل کرتے تھے اور دوسروںسے عمل کراتے تھے ۔ یہی سنّت ہے کہ اور اسی کو تعامل کہتے ہیں ۔ اور بعد میںاتمہ نے نہایت ہی محنت اور جانفشانی سے اس سنّت کو الفاظ میں لکھااور جمع کیا اور اس کے متعلق تحقیقات اور چھان بین کی ۔ پس وہ حدیث ہوئی دیکھوبخاری اور مسلم کو کیسی محنت کی ہے ۔آخر انھوں نے اپنے باپ دادوں کے احوال تو نہیں لکھے ۔ بلکہ جہاں تک بس چلا صحت وصفائی کے ساتھ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال یعنی سنّت کو جمع کیا اور کثر حدیثوںمثلاً بخا کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں برکت اور نورہے ۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ باتیں رسُول اللہ کے منہ سے نکلی ہیں۔ امامکم منکم کی حدیث کیسے صاف ظاہر کتی ہے کہمسیح تم میںسے ہو گا ۔اور یہ عیسائیوں کا ردّہے ۔کیونکہ عیسائی فخر کرتے تھے ۔عیسیٰ پھر آئے گا اور دین عیسوی کو بڑھائے گا ،لیکن آنحضرت ؐ نے سنایا کہ ہم نے اس کو آسمان پر دیگر فوت شدولوگوں میں دیکھا اور پھر فرمایا کہ جوآنے والامسیح ہے وہ امامکم منکم ہوگا غرض احادیث کے متعلق ایسا کلمہ نہیں بولنا چاہئیے۔ہاں اس معاملہ میں غلو بھی نہیں کرناچاہئیے کہ اس کو قرآن اور تعامل سے بڑھ کر سمجھاجائے ، بلکہ جو کچھ قرآن اور سنّت کے مطابق حدیث میں ذکر ہو اہے اس کو ماننا چاہئیے ۔کیونکہ جب حدیث کی کتابیں نہ تھیں تب لوگ نمازیں پڑھتے تھے اورتمام شعائر اسلام بجالاتے تھے ۔ پس قرآن شریف کے بعد تعامل یعنی سنّت ہے ۔اور پھر حدیث ہے ۔جو اُن کے مطابق ہو ۔ مولوی محمد حسین نے پہلے اپنے رسالہ اشاعت السنّہ میں ایسا ظاہر کیاتھا کہ جو لوگ خدا سے وہی اور الہام پاتے ہیں وہ اپنے طور پر براہ راست احادیث کی صحّت کر لیتے ہیں بعض وقت قواعد علم حدیث کی روح سے ایک حدیث موضع ہوتی ہے اور ان کے نزدیک صحیح قراردی ہوئی اُن کے نزدیک موضع ۔غرضبات یہ ہے کہ قرآن اور سنّت اور حدیث تین مختلف چیزیںہیں ۔