نگران تھا۔اب صاف ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیحؑ دوبارہ دنیا میں آئے تھے۔اور یہ سوال ہوا تھا قیامت میں تو اس کا یہ جواب نہیں ہونا چاہیے تھا۔بلکہ اُن کو تو یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ ہاں بیشک میرے آسمان پراٹھائے جانے کے بعد اُن میں شرک پھیل گیا تھا،لیکن پھر دوبارہ جا کر تو میں نے صلیبوں کو توڑا۔فلاں کافر کو مارا۔اُسے ہلاک کیا،اُسے تباہ کیا۔نہ یہ کہ وہ یہ جواب دیتے۔
وکنت علیہم شھید اما دمت فیھم۔ (المائدہ :۱۱۸)
اس جواب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کو ہر گز ہر گز خود دنیا میں نہیں آنا ہے اور یہ نصّ ہے اُن کے عدم نزول پر۔
۱۲؍اگست ۱۹۰۲ء
(بوقت شام)
حضرت جریاﷲ فی حلل الانبیاء علیہ الصوٰۃ والسلام ادائے نماز کے بعد جلوس فرما ہوئے۔فرمایا کہ :
چونکہ یہ کتاب نزول المسیح تمام مسائل کی جامع کتاب بنانی چاہتا ہوں۔ اس لیے میرا ارادہ ہے کہ ہمارے چند احباب میری کتابوں کے مضامین کی ایک ایک فہرست بنادیں ،تا کہ مجھے معلوم ہو جاوے کہ کون کون سے مضامین اس میں آچکے ہیں۔
اس کے بعد ایڈیٹر الحکم نے الحکم کا وہ نمبر پیش کیا جو ۲۴؍ جولائی ۱۹۰۱ء کا چھپا ہوا ہے اور جس میں حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک خط مولوی عبدالرحمٰن صاحب لکھو کے والے کے نام حضرت حجۃاﷲ المسیح الموعود کے ایماء سے لکھا تھا اور جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر تو حضرت اقدس کے بر خلاف نام لیکر کوئی مخالف الہام پیش کریگا، تو ہلاک ہو جاوے گا۔غرض وہ مضمون ناظرین الحکم پڑھ چکے ہیں۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔
مولوی عبداﷲ چکڑالوی کے خلاف وجوہ کفر
اس کے بعد حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کی کہ مولوی محمد حسین صاحب کا ایک رسالہ آیا ہے۔جس میں چینیاں والی مسجد میں قیامت کے عنوان سے آپ نے ایک مضمون لکھا ہے۔جو مولوی عبداﷲ چکڑالوی کے خلاف ہے۔لکھتے لکھتے ایک مقام پر لکھتا ہے کہ ہم اس کو پرافٹ آف قادیان کے ساتھ ملاتے ہیں۔یعنی کفر کا فتویٰ دیتے ہیں؛چنانچہ اس کے نیچے پھر کفر کا فتویٰ مرتب کیا ہے۔
اس پر حضرت اقدس نے دریافت فرمایا کہ : وجوہ کفر کیا ہیں؟