اس پر عرض کیا گیا کہ حضور! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی احیائے موتی کی کیفیت کے متعلق اطمینان چاہا تھا۔کیا اُن کو بھی پہلے اطمینان نہ تھا؟ فرمایا :
انبیاء تلامیذالرحمٰن ہوتے ہیں،اُن کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے
اصل بات یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اﷲ تعالیٰ کے مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذالرحمٰن کہلاتے ہیں۔اُن کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے۔اس لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن شریف میں آیا ہے۔
کذلک لنثبت بہ فئوادک ور تلنہ ترتیلا۔ (الفرقان : ۳۳)
پس میں اس بات کو خوب جانتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کی حالت کیسی ہوتی ہے۔جس دن نبی مامور ہوتا ہے اُس دن اور اُس کی نبوّت کے آخری دن میں ہزاروں کوس کا فرق ہو جاتا ہے۔پس یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کہا۔ابراہیم ؑ تو وہ شخص ہے۔جس کی نسبت قرآن شریف نے خود فیصلہ کر دیا ہے۔
ابراھیم الذی وفی (النجم : ۳۸)
واذابتلیٰ ابراھیم ربہ بکلمت فاتمھن۔ (البقرہ : ۱۲۵)
پھر یہ اعتراض کس طرح پر ہو سکتا ہے۔
کیا ایک بچہ مثلاً مبارک(سلمہٗ ربہٗ) جو آج مکتب میں بٹھایا وہ ایم اے۔بی اے کا مقابلہ کر سکتا ہے۔اسی طرح انبیاء کی بھی حالت ہوتی ہے کہ ان کی ترقی تدریجی ہوتی ہے۔دیکھو براہینؔ احمدیہ میں باوجودیکہ خدا تعالیٰ نے وہ تمام آیات جو حضرت مسیحؑ سے متعلق ہیں میرے لیے نازل کی ہیں اور میرا ہام مسیح رکھا اور آدم۔دائود۔سلیمان غرض تمام انبیاء کے نام رکھے،مگر مجھے معلوم نہ تھا کہ میں ہی مسیح موعود ہوں جبتک خود اﷲ تعالیٰ نے اپنے وقت پر یہ راز نہ کھول دیا۔حواریوں نے جو اطمینانِ قلب چاہا ہے وہ ان سب نشانات کے بعد ہے جو وہ دیکھ چکے تھے،اس لیے وہ اعتراض کے تیچے ہیں کہ ان کو ضرور شک تھا۔
آیت فلما توفیتنی نصّ ہے مسیحؑ کے عدم نزول پر
اس کے بعد امریکہ کے مشہور کاذب اور مفتری ڈاکٹر ڈوئی کے اخبار کا خلاصہ برادر مفتی محمد صادق صاحب نے پڑھ کر سنا یا۔اُس کے سننے کے بعد حضرت حجۃاﷲ نے پھر ذکر کیا کہ :
فلما توفیتنی (المائدہ : ۱۱۸)
سورئہ مائدہ کی آیت پر آج پھر غور کرتے ہوئے ایک بئے بات معلوم ہوئے۔اور وہ یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضرت مسیح سے یہ سوال ہوا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو الہٰ بنالو تو وہ اپنی پریت کے لیے جواب دیتے ہیں کہ میں نے تو وہی تعلیم دی تھی جو تو نے مجھے دی تھی اور جبتک میں اُن میں رہا،اُن کا نگران تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی۔تو تُو اُن پر