جہاں اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے اور پھر یہ لوگ خنزیر خور ہیں۔اُن کے ساتھ کھانا کھانا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی کی ماں بہن کو گالیاں دے،تو کیا وہ روارکھے گا کہ اس کے ساتھ مل کر بیٹھے اور معانقہ کرے۔پھر جب یہ بات نہیں اﷲ اور اس کے رسولؐ کے دشمنوں اور گالیاں دینے والوں سے کیوں اس کو جائز رکھا ہے۔
۱۱؍اگست ۱۹۰۲ء
آنحضرتؐاور آپ کے صحابہؓکی فضیلت مسیحؑ اور اُن کے حواریوں پر
بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام معمول کے موافق خدام کے حلقہ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ :
قرآن شریف کے ایک مقام پر غور کرتے کرتے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی عظمت اور کامیابی معلوم ہوئے۔جس کے مقابل میں حضرت مسیحؑ بہت ہی کمزور ثابت ہوتے ہیں۔سورئہ مائدہ میں ہے کہ نزولِ مائدہ کی درخواست جب حواریوں نے کی تو وہاں صاف لکھا ہے کہ
قالو انزید ان ناکل منھا و تطمئن کلو بنا ونعلم ان قد صد قتنا ونکون علیھا من الشاھدین
(المائدہ : ۱۱۴)
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس قدر معجزات مسیح کے بیان کئے جاتے ہیں اور جو حواریوں نے دیکھے تھے۔ان سب کے بعد اُن کا یہ درخواست کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ اُن کے قوب پہلے مطمئن نہ ہوئے تھے۔ورنہ یہ الفاظ کہنے کی اُن کو کیا ضرورج تھی۔و تطمئن کلو بنا ونعلم ان قد صد قتنا۔مسیح کی صداقت میں بھی اس سے پہلے کچھ شک ہی ساتھا۔اور وہ اس جھاڑ پھونک کو معجزہ کی حد تک نہیں سمجھتے تھے۔اُن کے مقابلہ میں صحابہ کرامؓ ایسے مطمئن اور قوی الایمان تھے کہ قرآن شریف نے ان کی نسبت
رضی اللہ عنہم ورضواعنہ (البینۃ :۹)
فرمایا۔اور یہ بھی بیان کیا کہ اُن پر سکینت نازل فرمائی۔یہ آیت مسیح علیہ السلام کے معجزات کی حقیقت کھولتی ہے۔اور رسولاﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت قائم کرتی ہے۔صحابہ کا کہیں ذکر نہیں کہ اُنہوں نے کہا کہ ہم اطمینانِ قلب ثاہتے ہیں،بلکہ صحابہ کا یہ حال کہ اُن پر سکینت نازل ہوئے۔اور یہود کا یہ حال
یعرفونہ کما یعرفون ابنائھم (البقرہ :۱۴۷)
ان کی حالت بتائی۔یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت یہانتک کھل گئے تھی کہ وہ اپنے بیٹوں کی طرح شناخت کرتے تھے اور نصاریٰ کا یہ حال کہ ان کی آنکھوں سے آپ کو دیکھیں تو آنسو جاری ہو جاتے تھے۔یہ مراتب مسیح کو کہاں نصیب!