خدا تعالیٰ تو غنی ہے۔ اگر ساری دنیا اُس کی عبادت نہ کرے تو اس کو کیا پروا ہے۔ہزاروں موتیں انسان قبول کرے تو خدا کو خوش کرسکتا ہے۔خدا تعالیٰ کی آزمائش نہ کرو یہ اچھا طریق نہیں۔ حدیث حدیثیں دو قسم کی ہیں۔اوُل وہ جوصراحتاً بلا تاویل ہماری ممد اور معاون ہیں۔جیسے اما مکم منکم۔فامکم منکم۔لامھدی الا عیسیٰ وغیرہ۔اور دوم کچھ اس قسم کی ہیں۔جو ہمارے مخالف پیش کرتے ہیں۔ان میں سے بعض تو ایسی ہیں کہ ذرا سی توجہ سے ان کا مضمون اور مفہوم ہمارے مطابق ہو جاتا ہے اور بعض بالکل محرف و مبدل قرآن شریف کے خلاف اقوالِ مر دودَہ ہیں۔ہم اُن کو رد کر دیں گے۔ خدا تعالیٰ کی آواز تو ہمیشہ آتی ہے،مگر مردوں کی نہیں آتی۔اگر کہیں کسی مردے کی آواز آتی ہے تو خا کی معرفت۔یعنی خدا تعالیٰ کوئی خبر اُن کے متعلق دے دیتا ہے۔اصل یہ ہے کہ کوئی ہو خواہ نبی ہو یا صدیق یہ حال ہے۔ کہ آنراکہ خبر شد خبرش بازنیامد۔اﷲ تعالیٰ ان کے درمیان اور اہل و عیال کے درمیان ایک حجاب رکھ دیتا ہے۔وہ سب تعلق قطع ہو جاتے ہیں۔اسی لیے فرمایا ہے : فلا انساب بینہم (المومنون : ۱۰۲) کہف والا قصہ ہماری راہ میں نہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے اُن کو سلایا ہو اور پھر جگایا ہو،تو ہمارا کوئی حرج نہیں۔مسیح کی وفات سے اس کو کیا تعلق؟ مسیح کے لیے کہاں رقود آیا ہے۔ فضیلت کا مسئلہ امام حسین ؑ پر میری فضیلت کا ذکر سنکر یونہی غصہ میں آتے ہیں۔قرآن نے کہاں امام حسین کا نام لیا ہے۔زیدؓکا ہی نام لیا ہے۔اگر ایسی ہی بات تھی تو چاہیے تھا کہ حسین کا نام بھی لے دیا جاتا۔اور پھر ماکان محمد ابا احدمنرجالکم کہہ کر اور بھی ابوت کا خاتمہ کر دیا۔اگر الاحسین کہہ دیا ہوتا تو شیعہ کا ہاتھ پڑسکتا تھا۔اصل یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام ان باتوں سے لا پروا ہوتے ہیں۔اُن کی تمنّا بھی یہ نہ تھی؛ ورنہ اﷲ تعالیٰ نبیوں کی تمنّا بھی پوری کر دیتا ہے۔ مخالفین سے معانقہ قبل از نماز ظہر حضرت اقدس ؑ سے دریافت کیا گیا کہ عیسائیوں کے ساتھ کھانا اور معانقہ کرنا جائز ہے؟ فرمایا : میرے نزدیک ہر گز جائز نہیں یہ غیرت ایمانی کے خلاف ہے۔وہ لوگ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور ہم اُن سے معانقہ کریں۔قرآن شریف ایسی مجلسوں میں بیٹھنے سے بھی منع فرماتا ہے