برادری کے بھی حقوق ہیں؛البتہ جو متقی نہیں اور بدعات و شرک میں گرفتار ہیں اور ہمارے مخالف ہیں ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے؛تا ہم اُن سے نیک سلوک کرنا ضرور چاہیے۔ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو۔جو دنیا میں کسی سے نیکی نہیں کر سکتا،وہ آخرت میں کیا اجرلے گا۔اس لیے سب کے لیے نیک اندیش ہونا چاہیے۔ہاں مذہبی امور میں اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔جس طرح پر طبیب ہر مریض کی خواہ ہندو ہو یا عیسائی یا کوئی ہو سب کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔اسی طرح پر نیکی کرنے میں عام اصولوں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کفار کو قتل کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی شرارتوں اور ایذارسانیوں سے بہ سبب بلاوجہ قتل کرنے مسلمانوں کے مجرم ہو چکے تھے۔اُن کو جو سزا مجرم ہونے کی حیثیت سے تھی۔محص انکار اگر سادگی سے ہو اور اس کے ساتھ شرارت اور ایذارسانی نہ ہو ،تو وہ اس دنیا مین عذاب کا موجب نہیں ہوتا۔ رشوت رشوت ہر گز نہیں دینی چاہیے۔یہ سخت گناہ ہے،مگر میں رشوت کی یہ تعریف کرتا ہوں کہ جس سے گورنمنٹ یا دوسرے لوگوں کے حقوق تلف کیے جاویں۔میں اس سے سخت منع کرنا ہوں۔لیکن ایسے طور پر بطور نذرانہ یا ڈالی اگر کسی کو دی جاوے۔جس سے کسی کے حقوق کے اتلاف مدنظر نہ ہو،بلکہ اپنی حق تلفی اور شر سے بچنا مقصود ہو۔تو یہ میرے نزدیک منع نہیں ہے۔اور میں اس کا نام رشوت نہیں رکھتا۔کسی کے ظلم سے بچنے کو شریعت منع نہیں کرتی،بلکہ۔ لا تلقو ابایدیکم الی التھلکۃ۔(البقرہ : ۱۹۶) فرمایا ہے۔ خدا تعالیٰ کی آزمائش نہ کرو خان صاحب نواب خاں صاحب جاگیردار مالیر کوٹلہ نے ایک شخص کا ذکر کیا کہ وہ ارادت کا اظہار کرتا ہے۔مگر چاہتا ہے کہ اس کی توجہ نماز کی طرف ہو جائے۔فرمایا : یہ لوگ خدا تعالیٰ سے ایسی شرطیں کیوں کرتے ہیں۔پہلے خود کوشش کرنی چاہیے۔قرآن میں ایاک نعبد مقدم ہے۔خدا تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں۔اگر وہ خود کوشش کرنا چاہتے ہیں،تو مہینے تک یہاں آکر رہیں۔خدا نے فرمایا ہے۔ کونو امع الصادقین (التوبہ : ۱۱۹) یہاں وہ نماز پڑھنے والوں کو دیکھیں گے۔باتیں سنیں گے۔