ایک بار میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک ڈپٹی انسپکٹر پنسل سے ناخن کا میل نکال رہا تھا۔ جس سے اس کا ہاتھ ورم کر گیا۔آخر ڈاکٹر نے ہاتھ کاٹنے کا مشورہ دیا۔اس نے معمولی بات سمجھی ۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہلاک ہو گیا۔اسی طرح ایک دفعہ میں نے پنسل کو ناخن سے بنایا۔دوسرے دن جب میں سیر کو گیا،تو مجھے اس ڈپٹی انسبکٹر کا خیال آیا اور ساتھ ہی میرا ہاتھ ورم کر گیا۔میں نے اسی وقت دعا کی اور الہام ہوا۔اور پھر دیکھا تو ہاتھ بالکل درست تھا۔اور کوئی ورم یا تکلیف نہ تھی۔غرض بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب اپنا فضل کرتا ہے،تو کوئی تکلیف باقی نہیں رہتی ،مگر اس کے لیے ضروری شرط ہے کہ انسان اپنے اندر تبدیلی کرے۔پھر جس کو وہ دیکھتا ہے کہ یہ نافع وجود ہے،تو اس کی زندگی میں ترقی دے دیتا ہے۔ہماری کتاب میں اس کی بابت صاف لکھا ہے
واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض (الرعد : ۱۸)
ایسا ہی پہلی کتابوں سے پایا جاتا ہے۔ حزقئیل نبی کی کتاب میں درج ہے۔
انسان بہت بڑے کام کے لیے بھیجا گیا ہے، لیکن جب وقت آتا ہے اور وہ اس کام کو پورا نہیں کرتا۔تو خدا اس کا تمام کام کر دیتا ہے۔خادم کو ہی دیکھ لو کہ جب وہ ٹھیک کام نہیں کرتا،تو آقا اس کو الگ کر دیتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ اس وجود کو کیونکر قائم رکھے،جو اپنے فرض کو ادا نہیں کرتا۔
ہمارے مرزا صاحب پچاس برس تک علاج کرتے رہے۔اُن کا قول تھا کہ اُن کو کوئی حکمی نسخہ نہیں ملا۔سچ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر ہر ایک ذرہ جو انسان کے اندر جاتا ہے کبھی مفید نہیں ہو سکتا۔توبہ واستغفار بہت کرنی چاہیے۔تا خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے۔ جب خدا تعالیٰ کا فضل آتا ہے،تو دعا بھی قبول ہوتی ہے۔خدا نے یہی فرمایا ہے کہ دعا قبول کروں گا۔اور کبھی کہا کہ میری قضاء و قدر مانو۔اس لیے میں تو جب تک اذن نہ ہو لے کم امید قبولیت کی کرتا ہوں۔بندہ نہایت ہی ناتواں اور بے بس ہے۔پس خدا کے فضل پر نگاہ رکھنی چاہیے۔
حکام اور برادری سے سلوک
چوہدری عبد اﷲ خاں صاحب نمبردار بہلول پور نے سسوال کیا کہ حکام اور برادری سے کیا سلوک کرنا چاہیے۔
ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ سب سے نیک سلوک کرو۔حکام کی سچی اطاعت کرنی چاہیے کیونکہ وہ حفاظت کرتے ہیں۔جان اور مال اُن کے ذریعہ امن میں ہیں اور برادری کے ساتھ بھی نیک سلوک اور برتائو کرنا چاہیے کیونکہ