مخلوق پرست کبھی دانشمند نہیں ہو سکتے۔اور اب تو زمانہ بھی ایسا آگیا ہے۔علمی تحقیقات اور ایجادوں نے خود دلوں پر ایک اثر کیا ہے اور لوگ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ یہ خیالی امور ہیں۔؎ٰ ۱۰،۱۱؍اگست ۱۹۰۲ء؁ ایک قریشی صاحب کئی روز سے بیمار ہو کر دار الامان میں حضرت حکیم الامت کے علاج کے لیے آئے ہوئے ہیں۔اُنہوں نے متعدد مرتبہ حضرت حجۃاﷲ کے حضور دعا کے لیے التجاء کی۔آپ نے فرمایا : ’’ہم دعا کریں گے‘‘ تیمارداری ۱۰؍اگست کی شام کو اس نے بذریعہ حضرت حکیم الامت التماس کی کہ میں حضور مسیح موعود کی زیارت کا شرف حاصل کرنا چاہتا ہوں، مگر پائوں کے متورّم ہونے کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتا۔حضرت نے خود اا؍اگست کو اُن کے مکان پر جا کر دیکھنے کا وعدہ فرمایا؛ چنانچہ وعدہ کے ایفاء کے لیا آپ سیر کو نکلتے ہی خدام کے حلقہ میں اس مکان پر پہنچے جہاں وہ فروکش تھے۔آپ کچھ دیر تک مرض کے عام حالات دریافت فرماتے رہے۔زاں بعد بطور تبلیغ فرمایا : کہ قبولیتِ دعا کی شرط میں نے دعا کی ہے، مگر اصل بات یہ ہے کہ نری دعائیں کچھ نہیں کر سکتی ہیں۔جبتک اﷲ تعالیٰ کی مرضی اور امر نہ ہو۔دیکھو اہل حاجت لوگوں کو کس قدر تکالیف ہوتی ہیں۔مگر حاکم کے ذرا کہہ دینے اور توجہ کرنے سے وہ دور ہو جاتی ہیں۔اسی طرح پر اﷲ تعالیٰ کے امر سے سب کچھ ہوتا ہے۔ میں دعا کی قبولیت کو اس وقت محسوس کرتا ہوں۔جب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے امر اور اذن ہو،کیونکہ اس ادعونی تو کہا ہے مگر استجب لکم بھی ہے۔ یہ ضروری بات ہے کہ بندہ اپنی حالت میں ایک پاک تبدیلی کرے اور اندر ہی اندر خدا تعالیٰ سے صلح کر لے اور یہ معلوم کرے کہ وہ دنیا میں کس غرض کے لیے آیا ہے۔اور کہاں تک اس غرض کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔جبتک انسان اﷲ تعالیٰ کو سخت ناراض نہیں کرتا۔اس وقت تک کسی تکلیف میں مبتلا نہیں ہوتا۔لیکن اگر انسان تبدیلی کرے۔تو خدا تعالیٰ پھر رجوع برحمت کرتا ہے۔اس وقت طبیب کو بھی سوجھ جاتی ہے۔خدا تعالیٰ پر کوئی امر مشکل نہیں،بلکہ اس کی تو شان ہے۔ انما امرہ اذا ارا دا شیئا ان یقول لہ کن فیکون (یٰس : ۸۳)