ایسی صورتوں میں استفتاء قلب کافی ہے۔ اس میں شریعت کا حصہ رکھا گیا ہے۔میں نے جو کچھ کہا ہے اس پر اگر زیادہ غور کی جاوے تو امید ہے قرآن شریف سے بھی کوئی نص مول جاوے۔ بعد نماز عشاء حضور تشریف لے گئے۔ ۱۰ ؍اگست ۱۹۰۲ء؁ ۱۰؍اگست کی سیر میں شیعوں کے لاہوری مجتہد سید علی حائری کے دوسرے اشتہار یا رسالہ کا تذکرہ تھا۔جس میں علی حائری نے لغو اور بے معنی طریق پر حضرت امام حسین کی فضیلت کو کل انبیاء ؑ پر ثابت کرنے کی بالکل کوشش بیہودہ کی ہے۔اور ضمناً اس امر پر بھی ذکر ہوا کہ ہمارے مخالفین مکذبین کا جو انجام ہوا ہے۔وہ ایک زبردست نشان ہے۔مثلاً غلام دستگیر کا اپنی کتاب میں مباہلہ کرنا اور پھر اس کے چند روز بعد مرجاتا۔یا مولوی اسماعیل علیگڑھی کا مباہلہ کرنا اور ہلاک ہونا۔ایسا ہی لدھیانہ کے اول المکذبین مولوی عبدالعزیز کا تباہ ہونا یا دوسرے مخالفوں کا مختلف اذیتوں اور تکلیفوں میں مبتلا اور اس سلسلہ کا کامیاب اور با مراد ہونا یہ عظیم الشان نشان ہے۔ سچا سُکھ پھر باتوں ہی باتوں میں جناب نواب صاحب نے ذکر کیا کہ ایک شخص سے میں نے کہا کہ مومن ہی دنیا و آخرت میں سچا س۲کھ پاتا ہے۔ جس پر وہ شخص کہنے لگا۔ کہ پھر سب سے بڑے مومن تو انگریز ہیں۔اس پر حضرت حجۃاﷲ نے جو کچھ فرمایا۔اس کا خلاصہ وہ عنوان ہے جو ہم نے ا س نوٹ کے حاشیہ میں لکھ دیا ہے۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔کہ یہ بات غلط ہے کہ سچا سکھ یا راحت کفار کو حاصل ہے۔ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ یہ لوگ شراب جیسی چیزوں کے ایسے غلام ہیں اور اُن کے حوصلے کیسے پست ہیں۔اگر اطمینان اور سکینت ہو تو پھر خود کشیاں کیوں کرتے ہیں۔ایک مومن کبھی خودکشی نہیں کر سکتا۔جیسے شراب اور دوسرے نشہ بظاہر غم غلط کرنے والے مشہور ہیں۔اسی طرح سب سے بہتر غم غلط کرنے والا اور راحت بخشنے والا سچا ایمان ہے۔یہ مومن ہی کے لیے ہے۔ ولمن خاف مقام ربہ جنتن۔(الرحمان :۴۷) مخلوق پ رست دانشمند کہاں ! حضرت امام حسین کی فضیلت کے دلائل یا دعادی جو سید علی حائری نے بیان کیے ہیں۔اُن کے تذکرے پر حضرت اقدس نے ایک موقعہ پر فرمایا۔کہ :