کا اصل مقصود زیارت ہوتا تو وہ اھدنا کی جگہ ارناصور الذین انعمت علیہم کی دعا تعلیم فرماتا۔ جو نہہیں کیا گیا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی میں دیکھ لو کہ آپ نے کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ مجھے ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہو جاوے۔گو آپ کو معراج میں سب کی زیارت بھی ہو گئے۔ پس یہ امر مقصود بالذات ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔اصل مقصد سچی اتباع ہے۔
سورۃ فاتحہ کی دعا
چونکہ سورہ فاتحہ کا ذکر تھا۔ آپ نے فرمایا کہ :
اس میں تین گروہوں کا ذکر ہے۔ اوّل متعم علیہم۔دوم مغضوب، سوم ضالین۔مغضوب سے مراد بالاتفاق یہود ہیں اور ضالین سے نصاریٰ۔اب تو سیدھی بات ہے کہ کوئی دانشمند باپ بھی اپنی اولاد کو وہ تعلیم نہیں دیتا جو اس کے لیے کام آنے والی نا ہو۔ پھر خدا تعالیٰ کی نسبت یہ کیونکر روارکھ سکتے ہیں کہ اس نے ایسی دعا تعلیم کی ہے کہ جو پیش آنے والے امور نے تھے؟ نہیں بلکہ یہ امور سب واقعہ ہونے والے تھے۔ مغضوب سے مراد یہود ہیں اور دوسری طرف رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُمّت کے بعض لوگ یہودی صفت ہو جائیں گے۔یہانتک کہ ان سے تشبہ اختیار کریں گے کہ اگر یہودی نے ماں سے زنا کیا ہو تو وہ بھی کریں گے۔ اب وہ یہودی جو خدا تعالیٰ کے عذاب کے نیچے آئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے اُن پر لعنت پڑی تھی۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں یہ سب واقعات پیش آئیں گے۔ وہ وقت اب آگیا ہے۔ میری مخالفت میں یہ لوگ ان سے یک قدم بھی پیچھے نہیں رہے۔
رشوت کی تعریف
اس کے بعد حضرت مولانا نورالدین صاحب نے عرض کی کہ حضور ایک سوال اکثر آدمی دریافت کرتے ہیں کہ اُن کو بعض وقت ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ جبتک وہ کسی اہلکار وغیرہ کو کچھ نہ دین۔اُن کا کام نہیں ہوتا اور وہ تباہ کر دئیے جاتے ہیں۔فرمایا :
میرے نزدیک رشوت کی یہ تعریف ہے کہ کسی کے حقوق کو زائل کرنے کے واسطے یا نا جائز طور پر گورنمنٹ کے حقوق کو دبانے یا لینے کے لیے کوئی مابہ الا حتظاظ کسی کو دیا جائے، لیکن اگر ایسی صورت ہو کہ کسی دوسرے کا اس سے کوئی نقصان نہ ہو اور نہ کسی دوسرے کا کوئی حق ہو صرف اس لحاظ سے کہ اپنے حقوق کی حفاظت میں کچھ دے دیا جاوے تو کوئی حرج نہیں اور یہ رشوت نہیں،بلکہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ہم راستہ پر چلے جاویں اور سامنے کوئی کتا آجاوے تو اس کو ایک ٹکڑا روٹی کا ڈال کر اپنے طور پر جاویں اور اس کے ظر سے محفوظ رہیں۔
استفتاء قلب
اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ بعض معاملات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ اصل میں حق پر کون ہے۔ فرمایا :