۹؍اگست ۱۹۰۲ ؁ ء کی شام حضرت اقدس نمازمغرب سے فارغ ہو کر حسب معمول بیٹھ گئے ۔تھو ڑی دیر کے بعد کپور تھلہ سے آئے ہوئے دو تین احباب نے بیعت کی بیعت کے بعد ایک صاحب کی نسبت عرض کیا گیا یہ قاری ہیں آپ نے فرمایا کچھ سناؤ ۔چناچہ انہو ں نے حضرت اقدس کے ارشاد کے موافق سورۃ مریم کا ایک رکوع نہایت ہی عمدہ طور پر پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد قاری صاحب سے حضرت اقدس معمو لی ر دریافت فر ماتے ہیں ۔زاں بعد قاری صاحب نے عرض کی کہ حضور بہت عرصہ سے مجھے اس امر کا اشتیاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مجھے ہو جاوئے ۔اس لئے آپ کوئی وظیفہ مجھے بتا دیجئے کہ ایک جھلک ہو جاوے اس پر حضر اقدس نے فرمایا ؛ زیارت ِرسُول صلی اللہ علیہ وسلّم دیکھو آپ نے میری بیعت کی ۔جو شخص بیعت میں داخل ہو تا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان مقاصد کو مدّنظر رکھے جو بیعت سے ہیں ۔یہ امُور کہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوجاوے ۔ اصل منشاء اور مدّعات دُور ہیں ۔انسان کا اصل منشاء یہ ہر گز نہیں ہونا چاہئیے قرآن شریف میں بھی یہ اصل مقصد نہیں رکھا گیا ، فرمایا ہے ان کنتم تحبون اﷲ فا تبعونی یحببکم اﷲ (آلِ عمران : ۳۲) اصل غرض رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سچی اتباع ہے۔ جب انسان آپ کی اتباع میں کھویا جاتا ہے، تو ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ ضمناً زیارت بھی ہو جاوے۔جیسے کوئی میزبان کسی کی دعوت کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے عمدہ کھانے لاتا ہے، لیکن ان کھانوں کے ساتھ وہ ایک دسترخوان بھی لے آتا ہے۔ ہاتھ بھی دھلائے جاتے ہیں، حالانکہ اصل مقصد تو کھانا ہوتا ہے۔اسی طرح پر جو شخص رسول اﷲﷺ کی سچی اتباع کرتا ہے۔ وہ اس کو اپنا مقصد ٹھہراا ہے۔اس کے ساتھ آپ کی زیارت کا ہو جانا بھی کسی وقت ممکن ہے۔ دیکھو بہت سے لوگ یہاں جو بیعت کرنے کے لیے آتے ہیں وہ مجھے دیکھتے ہیں۔لیکن اگر ان میں وہ تبدیلی جو میری اصل غرض ہے اور جس کے لیے میں بھیجا گیا ہوں،نہیں ہوتی تو میرے دیکھنے سے اُن کو کیا فائدہ ہوا۔ اس طرح خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص بڑا ہی بدبجت ہے اور اس کی کچھ بھی قدر اﷲ تعالیٰ کے حضور نہیں جس نے گو سارے انبیاء علیہم السلام کی زیارت کی ہو، مگر وہ سچا اخلاص وفاداری اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان خشیت اﷲ اور تقویٰ اس کے دل میں نہ ہو۔ پس یاد رکھو بری زیارتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ نے جو پہلی دعا سکھلائی ہے اھد نا الصراط المستقیم صرا ط الذین انعمت علیہم (الفاتحہ : ۶،۷) اگر اﷲ تعالیٰ