ڈاکٹر ڈو ئی انتظار کرتا ہے آگیا ہے وہ میں ہوں۔پس میرے ساتھ مقابلہ کرکے یہ فیصلہ ہو سکتا ہے کہ کون کاذب اور مفتری ہے ۔ڈاکٹر ڈوئی اپنے مریدوں میںسے ایک ہزار آدمی کے دستخط دیگرایک قسم اس طرح شائع کر دے کہ ہم دونوں میں سے جو کاذب اور مفتری ہے وہ راست باز اور صادق سے پہلے ہلاک ہو جاوے۔پس پھر کاذب کی موت خود ایک نشان ہو جاوے گا ۔
یہ خلاصہ اس چٹھی کا جس میں اور بھی بہت سے حقائق ہیں ۔حضرت اقدسؑ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیشہ کے لئے ثابت کر دیا جاوے کہ یہ غلط خیال ہے کہ تلوار کبھی مذہب کا فیصلہ نہیں کر سکتی ہے یعنی مسئلہ جہاد پر روشنی ڈالی ہے اور اس کے ضمن میں حضرت مسیح کی موت اور آپ کی قبر پر بحث کی ہے ۔اور ان واقعات کی بناء پر جو انجیل میں درج ہوئے ہیں ثابت کیا ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرے،بلکہ وہاں سے بچ کر نکل کھڑے ہوئے اور کشمیر میں آکر فوت ہوئے ۔
اس چٹھی کے ختم کرنے کے بعد مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری نے ایک فارسی نظم غازیؔدگولڑیؔکے جواب میں پڑھی جو دوسری جگہ درج ہے ۔پھر مولوی جمال الدینصاحب سیکھواں والے نے ایک پنجابی نظم تصدیق المسیح میں جو سوہل کے خیاطوں کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہے ۔پڑھ کر سنائی جس میں حضرت حجۃاللہ کی صداقت کا معیار آپ کی عظیم الشان کامیابیاں اور دشمنوں کی نامرادیاں مذکور تھیں ۔ان نظموں کے پڑھے جانے کے بعد نماز عشاء ادا کی گئی ۔
۹؍اگست ۱۹۰۲
قیصر کی تاج پوشی
سیر میں مختلف تذکروں کے بعد قیصرِ ہند کے تاجپوشی کا ذکر آیا۔فرما یا کہ :
رعیّت کے بڑی خوش قسمتی ہے کہ شاہ ایڈ ورڈ ہفتم ہندو ستان کے سر پرست ہوئے ۔میری رائے تو یہ ہے کہ نوجوان بادشاہ کی نسبت بوڑھا بادشاہ رعایا کے لئے بہت ہی مفید ہو تا ہے ۔کیو نکہ نو جو ان اپنے جذبات اور جو ش کے نیچے کبھی کبھی رعایا کے حقوق اور نگہداشت کے طریقوں میں فرد گذاشت کر بیٹھتا ہے ،مگر عمر رسیدہ بادشاہ اپنی عمر کے مختلف حصّوں میں گذر جانے کے باعث تجربہ کار ہو تا ہے ۔اس کے جذبات دبے ہوئے ہو تے ہیں ۔خدا کا خوف اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے ۔اس لئے وہ رعایا کے لئے بہت ہی مفید اور خیر خواہ ہو تا ہے ۔