خداتعالیٰ کی توحید اسلام نے بڑے زور سے قائم کی مگر جب یہ مسیح میں خدائی صفات کو قائم کرتے اور مانتے ہیں تو توحید کہاں رہی پھر برکا ت اسلام کا فخر ہے ۔مگر یہ لوگ اس سے بھی منکر ہیں ۔ اگر پہلے قصّے پیش کریں تو سنائن والے بھی کرسکتے ہیں ۔ اسلام تو اس پھل کی طرح جو تازہ بتازہ ہو ۔ جس کہ کھانے سے لذّت اور خوشی محسوس ہو تی ہے ، مگر اب ان لوگوں نے وہ حالت کر دینی چاہی ہے جیسے ایک سڑا ہو پھل ہو۔ جس کی عفونت دماغ کو خراب کر دے ۔ خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کہ موافق اسلام کو تازہ ہی رکھا ہے اور اس لیے بجُزہمارے کوئی دوسرا اس کو پیش نہیں کرسکتا آج اسلام کو وہی کامیاب کر سکتا ہے جو بیان کرتے کرتے مسیح قبرتک پہنچادے ۔
پھر اسی سلسلہ میں فرمایاکہ :
خدا تعالیٰنے جو براہین میں وعدہ کیا تھا
ینصرک اللہ فی مواطن ۔
یعنی اللہ بہت سے میدانوں میں تیری مددکرے گا ۔اب تک جس قدر میدان ہمارے سامنے آئے خداتعالیٰ نے فتح دی ۔ ۱؎
۱؎ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ صفحہ ۴ پرچہ ۱۰ ؍اگست ۱۹۰۲ء
۸ ؍اگست۱۹۰۲ء کی شام
امریکہ کے ڈاکٹر ڈوئی کے نام حضرت مسیح موعود ؑ کی چٹھی کا خلاصہ
حضرت اقدس علیہ السّلام نے مولوی مُحمد علی صاحب کووہ چٹھی دی جو ڈاکٹرڈوئی امریکہ کہ مشہور عیسائی مفتری کے نام لکھی ہے ؛چناچہ وہ چٹھی پڑھ کر سنائی گئی ۔ اس چٹھی کو ہم انشاء اللہ خیر ستمبر۱۹۰۲ ء تک الحکم میں شائع کرنے کے قابل ہو سکیں گئے تاہم حاصل بالمطلب کے طور پر اتنا اب بھی لکھ دیتے ہیں کہ حضرت اقدس ؑ نے اس چٹھی میں ایک عظیم الشان فیصلہ کی بنیاد رکھ دی ے ۔ ہمارے ناظرین اخبار کو غالباًمعلوم ہوگا کہ ڈاکٹر ڈوئی کایہ دعوی ہے کہ وہ عہد نامہ کا رسول ہے ۔وہ الیاس پیغمبر ہے جس کا آنا مسیح سے پہلے ضرو ری تھا اس نے اپنے اخبار میں یہ پیش گوئی کی ہے کہ وہ سلطنت وہ انسان وہ قوم ہلاک ہو جائے گی جو اس کو رسو ل نہیں مانتے اور مسلمانوں کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے اور اس پیشگو ئی میں ہماری گورنمنٹ کو بھی داخل کر لیا ہے اور تمام دنیا کی سلطنتو ں کو شامل کیا ہے ۔
حضرت اقدّسؑ نے اس چٹھی کے ذریعہ ڈاکٹر ڈوئی کو دعوت کی ہے کہ ؛
اب فیصلہ کا طریق آسان ہے۔ اس قدر مسلمان کے ہلاک کرنے کی ضرورت نہیں ،کیو نکہ مسیح موعو د ؑ جس ک