نے ہندوستانیوں کو دعوت کی ہے کے وہ ہندستان سے جانے والوںکے لیے اپناالگ جہاز بھیجنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں ۔ اس پر فرمایا کہ :
بیشک ہم تو ہر وقت تیار ہیں اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ وہ کب ہوگی اور اس کہ قواعد کیا ہیں ۔ تو ہم اسلام کی خوبیوں اور دُوسرے مذہب کے ساتھ اس کا مقابلہ کر کہ دکھاسکتے ہیں اور اسلام ہی ایسا مذہب ہے جوکہ ہر میدان میں کامیاب ہوسکتا ہے کیونکہ مذہب کہ تین جُزوہیں۔اوّل خداشناسی ۔مخلوق کہ ساتھ تعلق اور اس کے حقوق اور اپنے نفس کے حقوق۔جس قدرمذاہب اس وقت موجود ہیں بجُز اسلام کے جو ہم پیش کرتے ہیں سب نے بے اعتدالی کی ہوئی ہے ۔ پس اسلام ہی کامیاب ہوگا ۔
ذکر کیا گیا کہ وہ بُدھ مذہب ہے اس کا ذکر بھی اس مضمون میں آجانا چاہئیے ۔فرمایا:
بُدھ مت
بُدھ مذہب دراصل سنائن دھرم ہی کی شاخ ہے ۔ بُدھنے جو اوائل میں اپنے بیوی بچّوں کوچھوڑ دیا اور قطعی تعلق کر لیا ، شریعت ِ اسلام نے اس کو جائز نہیں رکھا ۔ اسلام نے خداتعالیٰ کی طرف توجہ کرنے اور مخلوق سے تعلق رکھنے میں کوئی تناقض بیان نہیں کیا ۔ بُدھ نے اوّل ہی قدم پر غلطی کھائی ہے اور اس میں ہی دہریّت پائی جاتی ہے ۔مجھے اس بات پہ کبھی تعجب نہیں ہوتاکہ ایک کُتّا مُردار کیوں کھاتا ہے جس قدر تعجب اس بات پہ ہوتا ہے کہ انسان انسان ہو کر اپنی جیسی مخلوق کی پرستش کیوں کرتا ہے اس لیے ا س وقت جب خدا نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے تو سب سے اوّل میرا فرض ہے کہ خدا کی توحید قائم کرنے کے لیے تبلیغ او راشاعت میں کوشش کروں ۔ پس مضمون تیار ہوسکتا ہے ا ر و وہاںبھیجا جاسکتا ہے ۔ پہلے قواعد آنے چاہئیں ۔
پھر فرمایا کہ :
اس مضمون کے پڑھنے کے لیے اگر مولوی عبدالکریم صاحب جائیں تو خوب ہے ۔ کاُن کی آواز بڑی بارُعب اور زبردست ہے اور وہ انگریزی لکھا ہو اہو ۔ تو اُسے خوب پرھ تے ہیں اور ساتھ مولوی محمد علی صاحب بھی ہوں اور ایک شخص اور بھی چاہئیے ۔
الرفیق ثم الطریق
پھر اس سلسلہ کلام میں فرمایا :
زمانہ میں باوجود استغراق دُنیا کے مذہب کی طرف بھی توجہ ہو گئی ہے اورمذہبی چھیڑچھاڑکاایسا سلسلہ جاری ہوگیا ہے کہ پہلے کبھی ایسا موقع نہیں ملا ۔
پھر اس ذکر پرانجمن حمایت اسلام کوبعض اخباروں نے توجہ دلائی ہے کہ وہ کوئی آدمی بھیجیں ۔ فرمایا :
ہمارے مخالف اسلام کو کیا پیش کریں گئے جب کے اسلام کی خوبیوں کاخود ان کو اعتراف نہیں ہے ۔اوّل