دنیا کو دیکھایا جاوے گا کہ کفن کھسوٹ مصنّف بھی دنیا میں ہیں ۔ اس کے بعد امریکہ کے مشہور مفتری مدعی الیاس دُوئی کا اخبار پڑھا گیا جو مفتی محمد صادق صاحب ایک عرصہ سے سنایا کرتے ہیں دُوئی نے اپنے مخالف قوموں بادشاہوں اور سلطنتوںکی نسبت پیگوئی کی ہے کہ وہ تباہ ہوجائیں گئے ۔ اس پر حضرت اقدس ؑ کے رگ ِ غیرت و حمیّت دینی جوش میں آئی اور فرمایا کہ :
’’مفتری کذاب اسلام کا خطرناک دشمنہے ۔ بہتر ہے اُس کے نام ایک کھلا خط چھاپ کر بھیجا جاوے اور اس کو مقابلہ کے لیے بلایاجاوے ۔ اسلام کے سوا دنیامیں کوئی سچّا مذہب نہیں ہے اور اسلام ہی کی تائید میں برکات اور نشان ظاہر ہوتے
۱؎ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ صفحہ ۱۱ پرچہ ۱۰ اگست ۱۹۰۲ء
ہیں میرا یقین ہے کہ اگر یہ مفتری میرا مقابلہ کرے گا‘تو سخت شکست کھائے گا اور اب وقت آگیا ہے کہ خداتعالیٰ اس کی افتراء کو اس کی سزادے گا ۔‘‘
غرض یہ قرارپایا کہ ۱۷ اگست کو حضرت اقدس ؑ ایک خط اس مفتری کو لکھیں اور اسے نشان نمائی کے میدان میں آنے کی دعوت کریں۔ یہ خط انگریزی زبان میں ترجمہ ہوکر مختلف اخبارات میں بھی شائع ہوگا اور بھیجا جاوے گا ۔‘‘
الہام
نزول المسیح جو آج کل لکھ رہے ہیں ۔ اور پیر گولڑی کی کتاب سیف چشتیائی بھی زیر نظر ہے ۔ اس پر کسی قدر توجہ کرنے سے یہ الہام ہوا ہے :
انی انا ربک القدیر ۔ لا مبدل لکلماتی
۷ ؍ اگست ۱۹۰۲ء
۷؍اگست کی صبح کو حسب معمول سیر کو نکلے ۔ ایڈیٹر الحکم نے عرض کی کہ حضور امسال شگا گو کی طرز پر ایک مذہبی کانفرنس جاپان میں ہونے والی ہے ۔ جس پر مشرقی دنیا کے مذاہب کے سر کردہ ممبروں کا اجتماع ہو گا اور اپنے اپنے مذہب کی خوبیوں پر لیکچر دئیے جائیں گئے ۔کیا اچّھاہواگر حضور لی طرف سے تقریب پر کوئی مضمون لکھا جائے اور اسلام کی خوبیاں اس جلسہ میں پیش کی جاویں ۔ہماری جماعت کی طرف سے کوئی صاحب جیسے مولوی محمد علی صاحب ہیں ، چلے جائیں ۔ جاپان کے مصارف بھی بہت نہیں ہیں اور جاپان والوں