واما ماینفع الناس فیمکث فی الارض ( الرعد: ۱۸ ) اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جیسا کہ ہمارے مخالف مشہور کرتے ہیں ۔ خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں تھا تو چاہئیے تھا کہ فیضی نے جولوگوں کی نفع رسانی کا کام شروع کردیا تھا ۔ اس میں اس کی تائید کی جاتی ، لیکن اس طرح پر اسکا جوانامرگ ہوجاناصاف ثابت کرتا ہے اس سلسلہ کی مخالفت کے لیے قلم اُٹھانا لوگوںکی نفع رسانی کاکام نہ تھا کم از کم ہمارے مخالفوں کوبھی اتناتو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کی نیّت نیک نہ تھی ؛ ورنہ کیا وجہ ہے کہ خداتعالیٰ نے اس کی تائید نہ کی اور اس کو مہلت نہ ملی کہ اس کو تمام کرلیتا ۔
میرے اپنے الہام میں بھی یہی ہے
واماماینفع الناس فیمکث فی الارض
تیس برس سے زیادہ عرصہ ہو اجب میں تپ سے سخت بیمار ہوا ۔ اس قدر شدید تپ مجھے چڑھی ہوئی تھی گویا بہت سے انگارے سینے پر رکھے ہوئے معلوم ہوتے تھے ۔ اسی اثنائے میں مجھے الہام ہو ا۔
واما ماینفع الناس فیمکث فی الارض ،
یہ جو اعتراض کیا جاتاہے بعض مخا لف ِ اسلام میں بھی لمبی عمر حاصل کرتے ہیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے اُن کا وجود بھی بعض رنگ میں مفید ہی ہوتا ہے ۔ دیکھو ابو جہل بدر کی جنگ تک زندہ رہا ۔ اصل بات یہ ہے کہ مخالف اعتراض نہ کر تے تو قرآن شریف کے تیس سپارے کہاں سے آتے ۔ جس کے وجود کو اللہ تعالیٰ مفید سمجھتا ہے اسے مہلت دیتا ہے ۔ ہمارے مخالف بھی جو زندہ ہیں۔ وہ مخالفت کر تے ہیں ۔ ان کے وجود سے بھی یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف کے حقائق و معارف عطا کرتا ہے۔ اب اگر مہر علیشاہ اتنا شو رنہ مچاتا تو نزول مسیح کیسے لکھاجاتا۔
اس طرح پرجو دوسرے مذاہب باقی ہیں ان کے بقاء کا بھی یہی باعث ہے تاکہ اسلام کے اصو لوں کی خو بی اور حسن ظاہر ہو ۔اب دیکھ لو کہ نیو گ اور کفارہ کے اعتقاد والے مذہب موجود نہ ہوتے تو اسلام کی خوبیوں کا امتیا ز کیسے ہوتا ۔ غرض مخالف کا وجود اگر مفید ہو تو اللہ تعالیٰ اسے مہلت دیتا ہے ۔ ۱؎
6 اگست ۱۹۰۲
چھ اگست کی شام کومسیح مو عود ؑت تشریف لائے ۔پیر گو لڑی کی اس پرفن کاروائی کاذکر تھا جو اس نے اپنی کتاب سیف چشتیائی کی تالیف میں کی اور جس کا راز اگلی اشاعت میں بالکل کھول دیا جاوے گا اور