شیخ محی الدین سے پہلے اس وحدت وجود کا نام و نشان نہ تھا ہان وحدت شہودی تھی یعنی خداتعالیٰ کے مشاہدہ میں اپنے آپ کو فانی سمجھنا ۔ وحدت شہودی میں ’’من شُدی ‘‘استیلائے محبت کا تقاضا تھا۔ وجُودیوں نے اس سے تجاوز کرکہ وہ کام کیا جو ڈاکٹراور فلاسفر کرتے ہیں وہ خدائی کے حصّے دار بنتے ہیں اور دیکھا گیا ہے کہ یہ وحدت وجود الے عموماً اباحتی ہوتے ہیں ۔ اور نماز و روزہ کی ہر گز پرواہ نہیںکرتے۔ یہاں تک کہ کنجروں (کنچنیوں ) کے ساتھ بھی تعلقات رکھتے ہیں ۔ ان کو کوئی پرہیز اور کوئی عُذر نہیںہوتا ۔ شہود کی حقیقت تویہی ہے ۔ کہ جیسے لوہے کو آگ میں ڈالا جاوے اور وہ اس قدر گرم ہوجاوے کہ سُرخ آگ کی طرح ہوجاوے ۔ اس اگر چہ آگ کہ خواص پائے جاتے ہیں ؛ تاہم وہ آگ نہیںکہلا سکتا ۔ اس طرح جس شخص کو خداتعالیٰ سے تعلقات قومی اور شدید ہوتے ہیں اور فنافی اللہ کہ درجہ پر ہوتاہے ، تواس سے بسااوقات خارق اور عادت معجزات صادر ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک قسم کی اقتداری قوت کانمونہ رکھتے ہیں ، لوگ اپنی غلط فہمی اور کمزوری سے یہ گمان کر بیٹھتے ہیں کہ شاید یہ خداہو ۔ شہودی حالت میں اکثر امور ان کی مرضی کے موافق ہو جاتے ہیں ۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعلوں کو خدا تعالیٰ نے اپنا فعل قرار دیا ہے اور
الیوم اکملت لکم دینکم (المائدہ :۴) اور اذا جا ء نصر اللہ (النصر :۲)
کی صدا آپ ؐ کو آگئی ۔؎ٰ
۴؍اگست ۱۹۰۲ ء
۴؍اگست کی شام کو بعد نماز مغرب حجۃاللہ حسب معمول تشریف فرما ہوئے ۔خدام پروانہ وار ارد گرد تھے ۔ایک نوجوان نے عرض کی کہ مَیں اپنا خواب بیان کرنا چاہتا ہوں ۔فرمایا:
’’کل صبح کو بیان کرو ۔مسنون طریق یہی ہے ۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی صبح ہی کو خواب سنا کرتے تھے ‘‘۔
ایک زبردست نشان
اثنائے کلام میں اس امر پر تذکرہ ہو اکہ فیضی ساکن بھیں نے اعجاز المسیح کا جواب لکھنا چاہا تھا،جو خدائے تعالیٰ کے وعدے کے موافق جو اعجاز المسیح کے ٹائیٹل پیجپر درج ہے ۔ بامراد نہ ہوسکا، بلکہ اس دنیا سے اُٹھ گیا ۔ حضرت حُجۃ اللہ نے فرمایا کہ :
یہ کس قدر زبر دست نشان ہے خداکی طرف سے ہماری تصدیق اور تائید میںکیونکہ قرآن شریف میں آیا ہے