طاقتور ہستی ہے اگر دونوں ایک ہوتے تویہ نامرادی نہ ہونے پاتی ۔یہ باتیں قرآن شریف کی تعکیم صریح خلاف ہیں اور خداتعالیٰ کے حضور خطرناک گستاخی کی باتیں ہیں ۔اس قسم کے اعتراض کرنا کہ پھر دنیا کیوں اس سے بنائی۔ بے ادبی ہے ۔ جب خداتعالیٰ کو قادر مان لیا، پھر ایسے اعتراضات کیوں کیے جاویں۔آریہؔ بھی اس قسم کے اعتراض کیا کرتے ہیںوہ خداتعالیٰ کو اپنی قوت اور طاقت کے پیمانہ سے ناپنا چاہتے ہیں ۔ پھر دیکھو۔وجودیوں کے بڑے بڑے صُوفی مرے ہیں اور مرتے ہیں۔اگر وہ خدا تھے تو ان کوتو اس وقت خدائی کرشمہ دکھانا چاہئیے تھا۔نہ یہ کہ عاجز انسان کی طرح تڑپ کر جان دے دی ۔یاد رکھو انسان کی سعادت یہی ہے کہ وہ خداتعالیٰ کے کاموں میں اپنا دخل نہ دے ،بلکہ اپنی عبودیت کا اعتراف کرے ۔ ہمارا تو یہ ایمان ہے اور مذہب ہے کہ ایک فوق الفوق قادر ہستی ہے جو ہم پر کام کرتی ہے ۔جدھر چاہتی ہے لے جاتی ہے ۔ وہ خالق ہے ہم مخلوق ہیں وہ حیّ قیوم ہے اور ہم ایک عاجز مخلوق ۔قرآن شریف میں جو حضرت سلیمان اور بلقیس کا ذکر ہے کہ اس نے پانی کو دیکھ کر اپنی پنڈلی سے کپڑا اُٹھایا ، اس میں بھی یہی تعلیم ہے جو حضرت سلیمان نے اس عورت کو دی تھی وہ دراصل آفتاب پرستی کرتی تھی ، اس کو اس طریق سے اُنھوں نے سمجھایا کہ جیسے یہ پانی شیشہ کے اندر چل رہا ہے ۔ دراصل اوپر شیشہ ہی ہے ۔اسی طرح پرآفتاب کو راشنی اور صنیاء بخشنے والی ایک زبر دست طاقت ہے ۔ اور یہ اعتراض جو پیدا کیا جاتاہے کہ قرآن شریف غیریّت اُٹھانے آیا تھا ۔ اس کو وجُودیوںنے سمجھا نہیں۔ ۔قرآن شریف یک اتّحاد عام مُسلمان میں قائم کرتا ہے نہ یہ کہ خالق اور مخلوق کو متحدفی الذات کر دے ۔ طائر کے بغیر تو کچھ سمجھ میں نہیںآتا۔ پس ایسی کوئی مثال وجودیوں کو پیش کرنی چاہئیے جس سے معلوم ہوجاوے کہ خالق اور مخلوق ایک ہی ہیں ۔ انسان گناہ سے محبت کرتاہے ۔ پھر وہ عین خدا کیونکر ہوسکتاہے ۔ وجودی کہتے ہیں کہ تم نے غیریّت سے شریک بنالیا ہے ہم کہتے ہیں۔ یہ غلط ہے ہمتو مخلوق مانتے ہیں ۔ جس پر ساراتصرّف خداتعالیٰ کا ہے ، کیونکہ وہ حیّ وقیّوم خدا ہے ۔ جس کے سہارے سے زندگی قائم ہے ۔ خداتعالیٰ اس قسم کا حیّ وقیّوم نہیں ہے کہ جیسے معمار کی عمارت کو ضرورت نہیںہوتی کہ معمار اس کے ساتھ زندہ رہے یعنی اگر معمار مر جاوے توعمارت کو اس کے مرنے سے کوئی نقصان نہیںہوتا ، بلکہ مخلوق کسی صورت میں اس کے سہارے سے الگ ہو ہی نہیںسکتی ۔ بلکہ اور مخلوق کی زندگی اور قیام کا اصلی ذریعہ وہی ہوتا ہے ۔ ہم عین غیر کی بحث میں ہر گز نہیںپڑتے۔ قرآن شریف نے اصطلاحوں کو کبھی بیان نہیںکیا ۔ جو تعلقات خالق اور مخلوقات لے اُس نے بیان کیے ہیں۔ ان سے باہر جانا گستاخی اور بے ادبی ہے ۔