صدق و وفا حدیث میںآیا ہے کہ صوم وصلوٰ ۃسے درجہ نہین ملتا ، بلکہ اس بات سے جو انسان کہ دل میں ہے یعنی صدق ووفا ۔ خدا یہی چاہتاہے کے عمل صالح ہو اور اس کا اخفا ء ہو یا ریا کاری نہ وہو ۔ صدق بڑی چیز ہے اس کے بغیرعمل صالحہ کی تکمیل نہیںہوتی ۔ خداتعالیٰ اپنی سنّت نہیںچھوڑنا چاہتا ۔اس لیے فرمایا ہے ۔ والذین جاھدو افینالنہدینہم سبلنا ( العنکبوت :۷۰ ) خداتعالیٰ میںہوکر جومجاہد کرتا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ اپنی راہیں کھول دیتا ہے ۔ وحد ت الوجود بُت پرست بھی وجُودیوںکی طرح اپنے بُتوں کی مظاہر ہی مانتے ہیں۔ قرآن شریف اس مذہب کو ترویدکرتا ہے ۔ وہ شروع ہی میںیہ کہتا ہے الحمد للہ رب العلمین اگر مخلوق اور خالق میں کوئی امتیاز نہیں ، بلکہ دونوں برابر اور ایک ہیں تو ربّ العالمین نہ کہتا اب عالم توخداتعالیٰ میں داخل نہیں کیونکہ عالم کے معنے ہیں مایعلم بہ اور خداتعالیٰ کے لیے لا تدرکہ الابصار (الانعام : ۴۔۱) موجودات کو جو وہ عین اللہ کہتے ہیں یہ بالکل غلط ہے ۔ قرآن شریف نے عین ؔ اور غیر کی کوئی بحث نہیں کی محی الدین ابن عربی سے جو مندوب کرتے ہیں کہ اس نے لکھا ہے کہ الحمد للہ الذی خلق الاشیاء وھوعینھا یہ بات صحیح ہے ۔ خداتعالیٰ فرمتاہے لا تقف مالیس لک بہ علم ۔ ( بنی اسرائیل : ۳۷ ) جب انسان کوکچھ خبر نہیں ۔ پھر بتاؤ غیب کہ کہاں رہی ۔ یہ تو پکی بات ہے کہ صفات کِسی چیز کے الگ نہیںہوتے خواہ وہ کہیں چلی جاوے ۔ پانی کو خواہ لندن لے جاؤآخر وہ پانی رہے گا ۔ جب انسان خداہو تو اس کی صفات اس سے الگ ہونے لگیں خواہ کسی حالت میں ہو۔ استحالہ کے ساتھ اس کے صفات معدوم ہوجاتے ہیں ۔ ہر ایک چیز کابقا تو اس کے صفات ہی اس کے ساتھ ہے ۔ اگر ایک پھول کے صفات اُس کے ساتھ نہیں تو وہ پھول کیونکر ہوسکتا ہے ۔پس اگر انسان خداہے تو پھر ا س کی خدائی کے صفات کسی چیز کے اس کے ساتھ ہونے ضروری ہیں۔اگر صفات نہیں تو پھر نادانی سے اُسے خدا بنایا جاتاہے ۔ انسان ایسی ایسی مصیبتوں اور مشکلات میںگرفتار ہوتا ہے کہ ٹکریںمارتا پھرتاہے اور ایسا سرگرداں ہوتا ہے کہ کچھ پتہ نہیں لگتا ہزاروں آرزوئیںاور تمنائیں ایسای ہوتی ہیں کہ پوری ہونے میں نہیں آتیں ۔ کیا خداتعالیٰ کے ایسے ارادے بھی اس قسم کے ہوتے ہیں کے پورے نہ ہوں ۔ اس کی شان تو یہ ہے ۔ اذا ارا شیئا ان یقول لہ کن فیکون ( یٰس : ۸۳) اس سے صا ف معلوم ہوتا ہے کہ وہ جو انسان کواپنے ارادوں میںنامراد کرتا ہے ۔ وہ کوئی الگ اور