کو رسم اور عادت سے نجات دینے اور سچّا اخلاص ار ایمان حاصل کرنے کی یہ راہ بتائی ہے کہ کُوْ نُوْ مَعَ الصّٰادِ قِیْنَ۔(التوبہ ۱۱۹) یہ سچّی بات ہے کہ اس کو کبھی بھولنا نہیں چاہئیے کہ جس نے نبی کی اطاعت کی اس نے اللہ تعا لیٰ کی عبادت کا حق ادا کردیا رسم اورعادت کی غلامی سے انسان اسی وقت نکل سکتا ہے ۔ جب وہ عرصہ دراز تک صادقوں کی صُحبت اختیار کرے اور اُن کے نقش قدم پر چلے ۔ مَایَنْفَع النَّاسَ فَیَمْکُتُ فِی ا لْاَرْض( الرعد : ۱۸ )ِ یہ جو خداتعالیٰ نے فرمایاہے ماینفع الناس فیمکت فی الارض ( الرعد : ۱۸ ) حقیقت یہی ہے کہ جو شخص دُنیا کے نفع رساں ہو۔ اس کی عمر دراز کی جاتی ہے ۔ اس پر جو یہ اعتراض کیا جاتاہے کہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چھوٹی تھی ۔ یہ اعتراض صحیح نہیںہے ۔ اوّل اس لیے کہ انسانی زندگی کا اصل منشاء اور مقصدآنحضرت ﷺنے حاصل کیا ۔ آپؐ دنیا میں اس وقت آئے جب کہ دنیا کی حالت بالطّبع مصلح کو چاہتی تھی اور پھر آپ ؐ اُس وقت اُٹھے جب پوری کامیابی اپنی رسالت میں حاصل کر لی ۔ الیوم اکملت لکم دینکم (المائدہ :۴) کی صدا کسی دوسرے آدمی کو نہیں آئی اور اذا جا ء نصر اللہ والفتح۔ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا(النصر :۲،۳) پوری کامیابی کا نظّارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اب جس حال میں کہ رسُول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پورے طور پر کامیاب ہو کر اُٹھے،پھر یہ کہنا کہ آپؐ عمر تھوڑی تھی سخت غلطی ہے ۔اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوض اَبدی ہیں اور ہر زمانہ میں آپؐ کے فیوض کا در وازہ کُھلا ہوا ہے ۔ اس لئے آپ ؐ کو زندہ نبی کہا جا تا ہے اور حقیقی حیات آپؐ کو حاصل ہے طُول ِعمر کا جو مقصدتھا وہ حاصل ہو گیا ۔اور آیت کاے موافق آپ ؐ ا بدا لآباد کے لئے زندہ رہے ۔ مسیح علیہ السّلام کی وفات کے دو گواہ مسیح علیہ السّلام کی وفات پر دو زبر دست گواہیاں علاوہ اور گو اہو ں کی شہادت کے موجو د ہیں ۔جن کا انکار ہرگز نہیںہوسکتااوّل خدا تعالیٰ کی شہادت جیسے یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی (آل عمران :۵۶) فرمایا ہے اور پھر دوسری شہادت رسُول اللہ علیہ وسلّم کی رؤیت کی ہے ۔ آپ ؐ نے یحیٰ علیہ السّلام کے ساتھ حضرت مسیحؑ کو دیکھا ۔ اب ان دو گواہوں کے خلاف یہ کہنا ہے کہ وہ زندہ ہے کہاں تک صحیح ہوسکتاہے ؟ رجُوع کا لفظ صعُود کے بعدہوتا ہے پھر جو لوگ مسیح کے معہ وجود عنصری آسمان پر چڑھنے ک وثابت کرتے ہیں ، ان کا فرض ہے کہ وہ مسیح کا رجُوع ثابت کریں ، کیونکہ نزول کے لیے صعُود الازم نہیں ہے ۔