ٹائپ کرنے والا ہے
انبیاء کی بعثت کی اصل غرض
انبیاء کی بعثت کی اصل غرض یہ ہو تی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایسا ایمان پیدا کریں جو اعمال صالحہ کی قوت عطا کرتا ہے اور گناہ سوز فطرت پیدا کرتاہے، کیونکہ اعمال صالہہ کبھی نہیں ہوسکتے جب تک اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان اور معرفت پیدانہ ہو ، ہر ایک عمل معرفت صحیح اور عرفان کامل کے بعد اعمال صالحہ کی مدّ میں آتا ہے ۔لوگ جوکچھ اعمال صالحہ کرتے ہیں یا صدقات و خیرات کرتے ہیںیہ رسم اور عادت کے طور پر کرتے ہیں ، اُس معرفت کا نتیجہ نہیں ہوتے جو ایمان علی اللہ کے بعد پیدا ہوتی ہے ؛چونکہ دنیا کی نیکیا ں اور بظاہر اعمال صالحہ رسم اور عادت کے طور پرہوتے ہیں ۔ اور دُنیاخداشناسی اور خدارسی کے مقاموں سے دور ہوتی ہے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السّلام کو مبعوث فرماتاہے جو آکر دنیا کو خداتعالیٰ پر ایمان لانے کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں ۔ باقی تمام اُمور اسی ایمان کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔ اس لیے اصل غرض انبیاء کے بعثت کے یہی ہوتی ہے ۔ کہ وہ انسان کو اس کی زندگی کے اصل منشاء عبودیت تامّہ سے آگاہ کریں اور خد اتعالیٰ پر عرفان بخش ایمان لانے کی تعلیم دیں۔
کُوْ نُوْ ا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ
انبیاء علیہم السّلام تھوڑے ہوتے ہیں اور اپنے اپنے وقت پر آیا کرتے ہیں ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام دُنیا