ایک نشان ۔ آج کل جو ایک پہاڑ کی وجہ سے جزائز غر الہند میں سینٹ پیری اور مارٹینک ہلاک ہوئے ہیں ا کے متعلق تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ۔ لوط کی بستی پر بھی اسی طرح پتھر برسے جیسے کوہ آتش فشاں سے پڑتے ہیں یہ قانون قدرت ہے موجودہ واقعہ جو ہلاکت کو ہوا ہے یہ مسیح کے زمانہ کا ایک نشان ہے ۔
قرآن کے ذریعہ توریت کی اصلاح ۔ ہم قرآن کریم کے ذریعہ توریت کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں توریت کے ذریعہ قرآن کی اصلاح کرنا نہیں چاہتے توریت کا مقابلہ ہی قرآن سے کیا ہے جہاں قرآن اور توریت کا اختلاف ہے وہاں صاف نظر آتا ہے کہ توریت میں ایک گند اور جھوٹ ہے جو بعد میں ملایا گیا ہے ۔
انبیاء اور مامورین کی ابتداء۔
انبیاء اور مامور ہمیشہ کذرع آتے ہیں ابتداء میں حقیر اور ذلیل نظر آتے ہیں فلسفی ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن آخر خداتعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے ۔
۱۴؍جون ۱۹۰۲ء
مردوں کا جی اُٹھنا
ہم خدا تعالیٰ کے اسی قانون قدرت کو مانتے ہیں جو قرآن شریف میں بیان ہوا ہے۔ جو مردہ ایسے ہیں کہقبر میں رکھے جاتے ہیں۔ اور اُن کے پاس ملائکہ آتے ہیں۔ اُن کی نسبت قرآن شریف کا یہی فتویٰ ہے
فیمسک التی قضی علیھا الموت (الزمر : ۴۳)
مگر برنگ دیگر غیر حقیقی موت میں احیا بھی ہوتا ہے؛ چنانچہ اس قسم کے واقعات خود ہمارے ساتھ بھی پیش آئے ہیں ؛ چنانچہ مبارک کے متعلق اس قسم کی مو تیں فیمسک التی قضی علیھا الموت سے نہیں۔ اور وہ یہ احیاء ہے جس پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ مردہ جی اٹھتا ہے۔
غرض خدا تعالیٰ نے جو قانون باندھا ہے اُسے ہم مانتے ہیں۔ اگر اس پر اعتبار نہ کریں اور یقین نہ لائیں تو