حد سے زیادہ بھروسہ کیا جاوے کہ فُلاں کام نہ ہوتا، تو میں ہلاک ہوجاتا یہ بھی شرک ہے ۔ تیسریؔ قسم شرک کی یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے وجود کہ سامنے اپنے وجود کو بھی شے سمجھا جاوے ۔ موٹے شرک میں توآج کل اس روشنی او ر عقل کہ زمانہ میں کوئی گرفتار نہیں ہوتا ، البتّہ اس مادی ترقی کے زمانہ میں شِرک فی الاسباب بہت بڑھ گیا ہے ۔ طاعون کے پھیلنے پر کوئی خیال نہیں کرتا کہ شامتِ اعمال سے پھیلی ہے اور اور اسباب کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ نماز عربی میں پڑھنی چاہئیے نماز اپنی زبان میں نہیں پڑھنی چاہئیے ۔ خداتعالیٰ نے جس زبان میں قر آن شریف رکھا ہے۔ اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذدار کے بیان کر سکتے ہیں، مگر اصل زبان کو ہر گز نہیں چھوڑنا چاہیے۔ عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا پھل پایا۔ کچھ بھی باقی نہ رہا۔ قرآن مجید میں طاعون کے متعلق پیشگوئی قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون سے کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔ جیسے فرمایا ہے ان من قریۃ الا نحن مھلکو ھا قبل یوم القیا مۃ او معذبو ھا۔ آلایتہ (بنی اسرائیل : ۵۹) اس سے لازم آتا ہے کہ کوئی قریہ مسّ طاعون سے باقی نا رہے۔ اس لیے قادیان کی نسبت یہ فرمایا۔ انہ اوی القریۃ ۔ یعنی اس کو انتشار اور افراتفری سے اپنی پناہ میں لے لیا۔ سزائیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک بالکلیتہ ہلاک کرنے والی۔ جس کے مقابلہ میں فرمایا۔لو لا الاکرام لھلک المقام۔یعنی یہ مقام اہلاک سے بچایا جائے گا۔ دوسری قسم کی سزا بطور تعذیب ہوتی ہے۔ غرض خدا تعالیٰ نے قادیان کو ہلاکت سے محفوظ رکھا ہے اور تعدّی سزا ممنوع نہیں بلکہ ضروری ہے۔ آیات اﷲ دانے کا کیا وجود ہوتا ہے، لیکن جمع کیے جاویں تو سیری کا موجب ہو جاتا ہے۔ ایک سیر خام میں قریباً پندرہ ہزار کے دانہ ہوتے ہیں۔ جس سے ایک آدمی بخوبی سیر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پر آیات اﷲ کو اگر جمع کیا جاوے اور قدر کی جاوے تو وہ روحانی سیری کا موجب ہو جاتی ہیں۔ ہمارے نشانات کو اگر یکجائی طور پر دیکھا دانے کا کیا وجود ہوتا ہے، لیکن جمع کیے جاویں تو سیری کا موجب ہو جاتا ہے۔ ایک سیر خام میں قریباً پندرہ ہزار کے دانہ ہوتے ہیں۔ جس سے ایک آدمی بخوبی سیر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پر آیات اﷲ کو اگر جمع کیا جاوے اور قدر کی جاوے تو وہ روحانی سیری کا موجب ہو جاتی ہیں۔ ہمارے نشانات کو اگر یکجائی طور پر دیکھا جاوے توا ن کی قوت و شوکت معلوم ہوتی ہے