امن اُٹھ جاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت جو کتاب اﷲ میں درج ہے۔ اس پر ہامرا ایمان ہے اور ہم اس پر بھی ایمن لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی صفات کے خلاف نہیں کرتا۔ مثلاً کوئی کہے کہ خدا تعالیٰ قادر ہے تو کیا خود کشی بھی کر لیتا ہے؟ ہم اس کے جواب میں کہیں گے۔ کہ کبھی نہیں کیونکہ ل لہ الاسماء الحسنٰی (الحشر : ۲۵) کوئی صفت اس سے منسوب نہیں کر سکتے ۔ وہ اپنی صفات قدیمہ کے خلاف نہیں کرتا۔ غرض احیائے موتیٰ اور قانون قدرت کے متعلق ہمارا یہی مذہب ہے کہ ہم اس احیاء کے قائل ہیں جو قرآن شریف نے بیان کیا ہے اور وہ قانون قدرت ہمارا امام ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے۔ یورپ کا فلسفہ اور اس کی محدود تحقیقاتیں ہمارے لیے رہبر نہیں ہو سکتی ہیں۔ ہمارا خدا قادر خدا ہے ہم اپنے خدا تعالیٰ پر یہ قوی ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے صادق بندہ کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ حضرت ابراہیمؑ کی طرح اگر وہ آگ میں ڈالا جائے تو وہ آگ اس کو جلا نہیں سکتی۔ ہمارا مذہب یہی ہے کہ ایک آگ نہیں اگر ہزار آگ بھی ہو تو وہ جلا نہیں سکتی۔ صادق اُس میں ڈالا جاوے تو ضرور بچ جاوے گا۔ ہم کو اگر اس کام کے مقابلہ میں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے۔ آگ میں ڈالا جاوے، تو ہمارا یقین ہے کہ آگ جلا نہیں سکے گی اور اگر شیروں کے پنجرہ میں ڈالا جاوے تو وہ کھانہ سکیں گے۔ میں یقینا کہتا ہوں کہ ہمارا خدا وہ خدا نہیں جو اپنے صادق کی مدد نہ کر سکے، بلکہ ہمارا خدا قادر خدا ہے جو اپنے بندوں اور اس کے غیروں میں مابہ الامتیاز رکھ دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر دعا بھی ایک فضول شئے ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ میں خدا تعالیٰ کی نسبت بیان کرتا ہوں اس کی قوتیں اور طاقتیں اس سے بھی کروڑ در کروڑ درجے بڑھ کر ہیں۔ جن کو ہم بیان نہیں کر سکتے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اگر قریؐ مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر آ گ میں ڈال دیتے ، تو وہ آگ ہر گز ہرگز آپؐ کو جلا نہیں سکتی تھی۔ اگر کوئی محض اس بناء پر کہ آگ اپنی تاثیر نہیں چھوڑتی۔ انکار کرے تو وہ خبیث اور کافر ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے جب ان سب دشمنوں کو مخاطب کر کے یہ کہہ دیا۔ فکیدونی جمیعا (ھود : ۵۶) تم سب مکر کر کے دیکھ لو میں اس کو ضرور بچا لوں گا۔پھر اگر کوئی یہ وہم بھی کرے کہ آگ میں ڈالتے تو معاذاﷲ جل جاتے یہ کفر ہے۔قرآن شریف سچا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں وہ کوئی بھی حیلہ اور فریب آپ کی جان لینے کے لیے کرتے۔ ال تعالیٰ ضرور اُن کے گزند سے محفوظ رکھتا جیسا کہ محفوظ رکھ کر دکھا دیا۔ جواہ وہ صلیب کا مکر کرتے خواہ آگ میں ڈالنے کا۔ غرض کوئی بھی کرتے۔ آخر محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے وعدے کے موافق صادق ثابت ہوتے۔ جیسا کہ ہوئے۔ جس طرف ہم اپنی جماعت کو کھینچنا چاہتے ہیں وہ یہی عظیم الشان مرحلہ خدا شناسی کا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں