کراہت کرتے تھے ، مگر جو کچھ خدا تعالیٰ نے اُن کے حق میں بیان فر مایاہے اور میںخداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتاہوں یہ الفاظ میرے الفاظ نہیں خداتعالیٰ کے الفاظ ہیں اور یہ اس لیے کہ خداتعالیٰ کی عزّت اور جلال اور محُمّدرُسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور عظمت اور جلال کو خاک میں ملادیا گیا ہے اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت حسین کے حق میں ایسا غلو اور اطرا کیا گیا ہے کہ اس سے خد اکا عرش کانپتا ہے اب جب کہ کرو ڑ ہا آدمی کی حضرت عیسیٰ کی مدح ثنا سے گمراہ ہو چکے ہیں اور ایسا ہی بے انتہا مخلو ق حضرت حسین کی نسبت غلو اور اطرا کر کے ہلا ک ہو چکی ہے تو خدا کی مصلحت اور غیرت اس وقت یہی چاہتی ہے کہ وہ تمام عزتو ں کے کپڑے جو بیجا طور پر ان کو پہنا ئے گئے تھے ۔ اُ ن سے اُتار کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ کو پہنائے جاویں ۔ پس ہماری نسبت یہ کلمات در حقیقت خد اکی اپنی عزت کے اظہار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لیے ہیں ۔ میں حلفاً کہتا ہوں کے میرے دل میں اصلی اور حقیقی جوش یہی ہے کے تمام محامد اور مناقب اور تمام صفات جمیلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کروں۔ میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ خداتعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہو ۔ میں یقینا جانتاہوں کے میری نسبت جس قدر تعریفی کلمات اور تمجیدی باتیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں ۔ یہ بھی درحقیقیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف راجع ہیں ۔ اس لیے میں آپ ؐ کا ہی غلام ہوں اور آپؐ ہی کہ مشکوٰ اۃِ نبّوت سے نور حاصل کرنے ولا ہوں اور مستقل طور پر ہمارا کچھ بھی نہیں ۔ اسی سبب سے میرا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ دعویٰ کرے کے میں مستقل طور پر بلااستفاضہ آنحضرت ﷺسے مامور ہوں اور خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتاہو ں تو وہ مردود اور مخذول ہے ۔ خدا تعالیٰ کی ابدی مُحر لگ چکی ہے۔ اس بات پر کوئی شخص وصول اِلی اللہ کے دروازے سے آنہیں سکتا ہے ۔ بجُز اتّباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۱؎ ۱؎ الحکم جلد ۶نمبر ۲۰ صفحہ ۷ ۔ ۸ پرچہ ۳۱ مئی ۱۹۰۲ ؁ء ۳۱ مئی ۱۹۰۲ء شرک کی اقسام شرک تین قسم کا ہے اول یہ کہ عام طور پر بت پرستی ,درخت پرستی وغیرہ کی جاوے یہ سب سے عام اور موٹی قسم کا شرک ہے دوسری قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب پر