دنیا میں ظاہر ہو۔ اگر ان ماموروں کی نسبت وہ یہ کہے کہ فلاں مامور جسے میں نے مبعوث کیا ہے ایسا نکمّہ بُزدل۔نالائق۔کمینہ۔سلفلہ اور ہر قسم کے فضائل سے عاری اور بیگانہ ہے تو کیا خدا تعالیٰ کی اس کے ذریعہ سے کوئی صفت قائم ہوسکے گی۔ حقیقت میں خدا کا ان کی تمجید اور مدارج اور فضائل بیان کرنا اپنے ہی جلال اور عظمت کی تمہید کے لیے ہوتا ہے۔
وہ تو اپنے نفس سے بالکل خالی ہوتے ہیں اور ہر قسم کے مدح وذم سے بے پروہ ہوتے ہیں؛ چنانچہ سالہاسال اس سے پہلے جبکہ نہ کوئی مقابلہ تھا نہ گرد و پیش میں کوئی مجمع تھا ۔نہ یہ مجلس اور اس کی کوئی تمہید تھی اور نہ دنیا میں کوئی شہرت تھی۔
7/3/05
خداتعالیٰ نے براہین ؔ احمدیہ میں میری نسبت یہ فرمایا کہ :
یحمدک اللہ من عرشہ ۔ نحمدک و نصلی ۔ کنتم خیر امۃ اخرجت للناس و افتخاراللمومنین۔ یااحمد ۔
نوٹ۔ یہاں عربی ٹیکسٹ لکھنے ولا ہے
فرمایا : میں اپنے قلب کو دیکھ کر یقین کرتا ہوں کہ کل انبیاء علیہمالسلام طبعا ً ہر قسم کی تعریف او ر مدح و ثناس