الھم ان اھلکت ھذہ العصا بۃ فلن تعبد فی الارض ابدا۔
یعنی اے خدا اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر اس کے بعد اس زمین میں تیری پرستش کبھی نہ ہوگی۔
فرمایا : یقینا یاد رکھو۔ یہ سلسلہ اس وقت اﷲ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ قائم نہ ہوتا، تو دنیا میں تصرانیت پھیل جاتی اور خدائے وحدہٗ لا شریک کی توحید قائم نہ رہتی۔ یا یہ مسلمان ہوتے جو اپنے ناپاک اور جھوٹے عقیدوں کے ساتھ نصرانیت کو مدد دیتے ہیں اور اُن کے معبود اور خدا بنائے ہوئے مسیح کے لیے میدان خالی کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ اب کسی ہاتھ اور طاقت سے نابود نہ ہوگا۔ یہ ضرور بڑھے گا اور پھولے گا اور خدا کی بڑی بڑی برکتیں اور فضل اس پر ہوں گے۔ جب تمہیں خدا کے زندہ اور مبارک وعدہ ہر روز ملتے ہیں اور وہ تسلی دیتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری دعوت زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا۔ پھر ہم کسی کی تحقیر اور گالی گلوچ پر کیوں مضطرب ہوں۔؎ٰ
۳۰ ؍ مئی ۱۹۰۲ء
مامورین کی تمجید اور مدح وثنا کی حقیقت
۳۰ ؍ مئی ۱۹۰۲ء کی شام کو مختلف باتوں کے تذکرہ میں یہ ذکر شروع ہوا کہ لوگ جناب کے اس فقرہ پر کہ میں مسیحؑ اور حسینؑ سے بڑھ کر ہوں۔ بہت جھلّا رہے ہیں۔حضور ؑ نے فرمایا :
’’دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ خو خواہ مخواہ بلا کسی قسم کے استحقاق کے اپنے تیئن محامد۔ مناقب اور صفاتِ محمودہ سے موصوف کرنا چاہتے ہیں۔ گو وہ یہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کبریائی کی چادر آپ اورڑھ لیں۔ اسیسے لوگ لعنتی ہوتے ہیں۔
دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو طبعاً ہرقسم کی مدح و ثنا اور منقبت سے نفرت اور کراہت کرتے ہیں۔ اور اگر وہ اپنے اختیار پر چھوڑ دیئے جاویں تو دل سے پسند کرتے ہیں کہ گوشئہ گمنامی میں زندگی گذار دیں۔ مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور باریک حکمتوں کی بناء پر اُن کی تعریف اور تمجید کرتا ہے اور درحقیقت ہونا بھی اسی طرح چاہے۔ کیونکہ جن لوگوں کو وہ مامور کر کے بھیجتا ہے۔ اُن کی ماموریت سے اس کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ اس کی حمدوثناء اور جلال