اگر ہماری جماعت کے لوگ بدزبانیوں اور فضول بحثوں سے باز نہ آئیں گے، تو ایسا نہ ہو کہ آسمانی کر روائی میں کوئی تاخیر اور روک پیدا ہو جائے، کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی عادت ہے کہ ہمیشہ اس کا عتاب ان لوگوں پر ہوتا ہے جن پر اس کے فضل اور عطایات بے شمار ہوں اور جنہیں وہ اپنے نشانات دکھا چکا ہوتا ہے۔ وہ ان لوگوں کی طرھ کبھی متوجہ نہیں ہوتا کہ انہیں عتاب یا خطاب یا ملامت کرے جن کے خلاف اس کا آخری فیصلہ نافذ ہونا ہوتا ہے؛ چنانچہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے۔ فاصبر کما صبر اولو االعزم من الرسل ولا تستعجل لھم (الاحقاف : ۳۶) اور فرماتا ہے۔ ولا تکن کصا حب الحوت (القلم : ۴۹) اور ھان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض (الانعام : ۳۶) یہ حجت آمیز عتاب ا س بات پر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت جلد فیصلہ کفار کے حق میں ثاہتے تھے، مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سنن کے لحاظ سے بڑے توقف اور حلم کے ساتھ کام کرتا ہے، لیکن آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو ایسا کچلا اور پیسا کہ اُن کا نام و نشان مٹا دیا۔اسی طرح پر ممکن ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ طرح طرح کی گالیں، افتراء پر دازیاں اور بدزبانیاں خدا تعالیٰ کے سچے سلسلے کی نسبت سنکر اضطراب اور استعجال میں پڑیں۔ مگر انہیں خدا تعالیٰ کی اس سنت کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برتی گئی ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ اس لیے میں پھر اور بار بار بتاکید حکم کرتا ہوں کہ جنگ وجدال کی مجمعوں تحریکوں اور تقریبوں سے کنارہ کشی کرو۔ اس لیے کہ جو کام تم کرنا چاہتے ہو یعنی دشمنوں پر حجت پوری کرنا۔ وہ اب خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ تمہارا کام اب یہ ہونا ثاہیے کہ دعائوں اور استغفار اور عبادتِ الٰہی اور تزکیہ وتصفیہ تفس میں مشغول ہو جائو۔ اس طرح اپنے تیئںمستحق بنائو خدا تعالیٰ کی عنایات اور توجہات کا جن کا اس نے وعدہ فرمایا ہے؛ اگر چہ خدا تعالیٰ کے میرے ساتھ بڑے بڑے وعدے اور پیشگوئیاں ہیں جن کی نسبت یقین ہے کہ وہ پوری ہوں گی، مگر تم خواہ نمواہ اُن پر مغرور نہ ہو جائو۔ ہر قسم کے حسد۔ کینہ۔بغض۔غیبت اور کبر اور رعونت اور فسق وفجور کی ظاہری اور باطنی راہوں اور کسل اور غفات سے بچو اور خوب یاد رکھو کہ انجام کا ر ہمیشہ متقیوں کا ہوتا ہے۔ جیسے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ والعا قبۃ للمتقین (الاعراف : ۱۲۹) اس لیے متقی بننے کی فکر کرو۔ سلسلہ احمدیہ کی عزت و عظمت حضرت مولانا عبدالکریم صاحب نے ذکر کیا کہ حصور کی بیماری کی شدت میں میرے دل میں بہت رقت پیدا ہوئی، تو میں نے بہت دعا کی کہ مولا کریم اسلام کی عزت، قرآن کی عزت۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور بالآ تیری اپنی عزت اور جلال کے اظہار کا بھی اس وقت یہی ذریعہ ہے۔ تو اس پر فرمایا : بیماری کی شدت میں جبکہ یہ گمان ہوتا تھا کہ روح پر واز کر جائے گی۔ مجھے بھی الہام ہوا۔