متعلق اپنی رائے دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ یہ جائز ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہزاروں طریق روپیہ کمانے کے پیدا کیے ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ اُن کو اختیار کرے اور اس سے پر ہیز رکھے۔ ایمان صراط مستقیم سے وبستہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو اس طرح سے ٹال دینا گناہ ہے۔ مثلاً اگر دنیا میں سؤر کی تجارت ہی سب سے زیادہ نفع مند ہو جاوے تو کی مسلمان اس کی تجارت شروع کر دیں گے۔ ہان اگر ہم یہ دیکھیں کہ اس کو چھوڑنا اسلام کے لیے ہلاکت کا موجب ہوتا ہے۔ تب ہم
فمن اضطر غیر باغ ولا عاد (الانعام : ۱۴۶)
کے نیچے لا کر اس کو جائز کہہ دیں گے مگر یہ کوئی ایسا امر نہیں اور یہ ایک خانگی امر اور خود غرضی کا مسئلہ ہے۔ ہم فیالحال بڑے بڑے عظیم الشان امور دینی کی طرف متوجہ ہیں۔ ہمیں تو لوگوں کے ایمان کا فکر پڑا ہوا ہے۔ ایسے ادنیٰ امور کی طرف ہم توجہ نہیں کر سکتے۔ اگر ہم بڑے عالیشان مہمات کو چھوڑ کر ابھی سے ایسے ادنیٰ کاموں میں لگ جائیں تو ہماری مثال اس بادشاہ کی ہوگی جو ایک مقام پر ایک محل بنانا چاہتا ہے، مگر اس جگہ بڑے شیر اور درندے اور سانپ ہیں اور نیز مکھیاں اور چیونٹیاں ہیں۔پس اگر وہ پہلے درندوں اور سانپوں کی طرف توجہ نہ کرے اور ان کو ہلاکت تک نہ پہنچائے اور سب سے پہلے مکھیوں کے فنا کرنے میں مصروف ہو تو اس کا کیا حال ہوگا۔ اس سائل کو لکھنا چاہیے کہ تم پہلے اپنے ایمان کا فکر کرو اور دو چار ماہ کے واسطے یہاں آکر ٹھہرو، تاکہ تمہارے دل و دماغ میں روشنی پیدا ہو اور ایسے خیالت میں نہ پڑو۔؎ٰ
۲۶ ؍ مئی ۱۹۰۲ء
جماعت کو مباحثوں اور مقابلوںکی ممانعت
۲۶ ؍ مئی ۱۹۰۲ء کو ۹ بجے دن کے خدام حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مختلف باتوں کے تذکرہ کے اثناء میں فرمایا :
’’میں بڑی تاکید سے اپنی جماعت کو جہاں کہیں وہ ہیں منع کرتا ہوں کہ وہ کسی قسم کا مباحثہ مقابلہ اور مجادلہ نہ کریں۔ اگر کہیں کسی کو کوئی درشت اور نا ملائم بات سننے کا تفاق ہو، تو اعراض کرے۔ میں بڑے و ثوق اور سچے ایمان سے کہتا ہوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری تائد میں آسمان پر خاص تیاری ہو رہی ہے۔ ہماری طرف سے ہر پہلو کے لحاظ سے لوگوں پر حجت پوری ہو چکی ہے۔ اس لیے اب خدا تعالیٰ نے اپنی طرھ سے اس کارروائی کے کرنے کا رادہ فرمایا ہے جو وہ اپنی سنت قدیم کے موافق اتمام حجت کے بعد کیا کرا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ