انی احافظ کل من فی الدار الا الذین علو ا با ستکبار
یعنی میں دار کے اندر رہنے والوں کی حفاظت کروں گا۔ سوائے ان لوگوں کے جنھون نے تکبر کے ساتھ علو کیا۔فرمایا : علو دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک جائز ہوتا ہے اور دوسرا نا جائز۔ جائز کی مثال وہ علو ہے جو حصرت موسیٰ علیہ السلام میں تھا اور ناجائز کی مثال وہ علو تھا جو فرعون میں تھا۔
اور فرمایا کہ صبح کی نماز کے بعد یہ الہام ہوا :
انی اری الملا ئکۃ الشداد
یعنی میں سخت فرشتوں کو دیکھتا ہوں جیسا کہ مثلاً ملک الموت وغیرہ ہیں۔
فرمایا کہ : خدا کے غضب شدید سے بغیر تقویٰ و طہارت کے کوئی نہیں بچ سکتا۔ پس سب کو چاہیے کہ تقویٰ و طہارت کو اختیار کریں اور اگر کوئی فاسق اور فاجر دار میں داخل ہو جائے، تو اُس کا بچ رہتا یقینی کیونکر ہو سکتا ہے۔ ہاں اس میں پھر بھی ایک قسم کی خصوصیت کی گئی ہے۔ کیونکہ جو لوگ علو استکبار نہ کریں۔ اُن کی حفاظت کا اﷲ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ لیکن انہ اوی القریۃ میں یہ امر نہیں۔ وہاں انتشار اور ہلچل شدید سے بثنے کا وعدہ معلوم ہوتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ایسا امر نہیں کرتا۔ جس سے لوگوں کو جرأت پیدا ہو جائے اور گناہ کی طرف جھکنے لگیں۔ متکبر علو کرنے والوں کے استثناء کی مثال ایسی ہے جیساکہ ایک کافر نے حضرت رسول کریمؐ کے زمانہ میں بیت اﷲ کی پناہ لی تھی۔ تو آنحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا۔ کہ اس کو اسی جگہ قتل کر دو۔ کیونکہ اﷲ تعالیٰ کا گھر مفسد کو پناہ نہیں دیتا۔
اس گائوں میں دراصل اس قسم کے سخت دل اور مخالف دین اسلام لوگ موجود ہیں کہ اگر اس سلسلہ کا اکرام نہ ہوتا تو یہ سارا گائوں ہلاک ہو جاتا۔ اور اب بھی اگر ثہ ممکن ہے کہ بعض وارداتیں ہوں، مگر تا ہم اﷲ تعالیٰ ایک مابہ الامتیاز قائم رکھے گا۔
سیونگ بنک اور تجارتی کارخانوں کے سود کا حکم
ایک سخص نے ایک لمبا خط لکھا کہ سیونگ بنک کا سودا اور دیگر تجارتی کارخانوں کا سود جائز ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس کے ناجائز ہونے سے اسلام کے لوگوں کو تجارتی معلملات میں بڑا نقصان ہو رہا ہے۔
حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور جبتک کہ اس کے سارے پہلوئوں پر غور نہ کی جائے اور ہر قسم کے ہرج اور فوائد جو اس سے حاصل ہوتے ہیں وہ ہمارے سامنے پیش نہ کیے جاویں ہم اس کے