عیسائیوں کے باہمی اختلافات
عیسائیوں کے باہمی اختلافات کاذکر تھا اور ایک کتاب پڑھی جارہی تھی۔ جس میں یہ ذکر ہے کہ موجودہ مذہب عیسوی اصل میں پولوسؔ نے فریب دہی سے بنایا ہے مسیح کا یہ مذہب نہ تھا۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا : کہ
’’دیکھو یہ لوگ آپ ہی عیسائیت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں،کیونکہ لکھا ہے کہ اگر مسیح دجال کو نہ مارے گا۔ تب بھی وہ گل گل کر مر جائے گا‘‘۔؎ٰ
۳۰ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء
الہام
فرمایا : آج رات کو الہام ہوا :
لو لا الا مر لھلک النمر
یعنی اگر سنت اﷲ اور امر الٰہی اس طرح پر نہ ہوتا کہ ائمتہ الکفر آخیر میں ہلاک ہوا کریں۔ تو اب بھی بڑے بڑے مخالف جلد تباہ ہو جاتے۔ لیکن چونکہ بڑے مخالف جو ہوتے ہیں۔ اُن میں ایک خوبی اور عزم اور ہمت اور لوگوں پر حکمرانی اور اثر ڈالنے کی ہوتی ہے۔ اس واسطے اُن کے متعلق یہ امید بھی ہوتی ہے کہ شاید لوگوں کے حالات سے عبرت پکڑ کر توبہ کریں اور دین کی خدمت میں اپنی قوتوں کو کام میں لاویں۔
فرمایا : اس بات میں بڑی لذت ہے کہ انسان خدا کے وجود کو سمجھے کہ وہ ہے اور رسول کو برحق جانے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنے گزارے کے مطابق اپنی معیشت کو حاصل کرے اور دنیا کی بہت مراد یا بیوی کی خواہش کے پیچھے نہ پڑے‘‘۔۲؎
۵ ؍ مئی ۱۹۰۲ء
الہامات
رات کے تین بجے حضرت اقدسؑ کو الہام ہوا :