دی ہے اور اعمال صالحہ کو نہروں سے جو رشتہ اور تعلق نہر جاوید اور درخت میں ہے وہی رشتہ اور تعلق اعمال صالحہ کو ایمان سے ہے پس جیسے کوئی باغ ممکن ہی نہیں کہ پانی کے بدوں سرسبز اور ثمر دار ہو سکے اس طرح پر کوئی ایمان جس کے ساتھ اعمال صالحہ نہے ہوں مفید اور کارگر نہیں ہو سکتا پس بہشت کیا ہے وہ ایمان اور اعمال ہی کے مجسم نظارے ہیں وہ بھی دوزخ کی طرح کوئی خارجی چیز نہیں ہے بلکہ انسان کا بہشت بھی اس کے اندر سے نکلتا ہے ۔یاد رکھو اس جگہ پر جو راحتیں ملتی ہیں وہ وہی پاک نفس ہوتا ہے جو دنیا میں بنا یا جاتا ہے ۔ پاک ایمان پودہ سے مماثلت رکھتا ہے اور اچھے اچھے اعمال ۔اخلاق فاضلہ یہ اس پودہ کی آبپاشی کے لئے بطور نہروں کے ہیں جو اس کی سرسبزی اور شادابی کو بحال رکھتے ہیں۔اس دنیا میں تو یہ ایسے ہیں جیسے خوا ب میں دیکھے جاتے ہیں ۔ مگر اس عالم میں محسوس اور مشاہدہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ لکھاہے کہ جب بہشتی ان انعاما ت سے بہر ہ ور ہوںگے تو کہیںگے ھٰذا ا لذی رزقنا من قبل واتوا بہ متشا بھا (البقر ہ: ۲۶) اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ دنیا میں جو دودھ یا شہد یا انگور یا انار وغیرہ چیزیں ہم کھاتے پیتے ہیں وہی وہاں ملیں گی نہیں وہ چیزیں اپنی نوعیت اور حالت کے لحاظ سے بالکل اور کی اور ہوں گی ہاں صرف نام کا اشتراک پایا جات ہے۔اور اگرچہ ان تمام چیزوں کا نقشہ جسمانی طور پر دکھایا گیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ بتا دیا گیا ہے کہ کہ وہ چیزیں روح کو روشن کرتی ہیں اور خدا کی معرفت پیدا کرنے والی ہیںان کا سرچشمہ روح اور راستی ہے رزقنا من قبل سے یہ مراد لینا کہ و ہ دنیا کی جسمانی نعمتیں ہیں بالکل غلط ہے بلکہ اللہ تعالٰیکا منشا اس آیت میں یہ ہے کہ جن مومنوں نے اعمال صالحہ کئے انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک بہشت بنایا جس کا پھل وہ اس دوسری زندگی میں بھی کھائیں گے اور وہ پھل چونکہ روحانی طور پر دنیا میں بھی کھا چکے ہوں گے اس لئے اس عالم میں اس کو پہچان لیں گے اور کہیں گے یہ تو وہی پھل معلوم ہوتے ہیں اور یہ وہی روحانی ترقیاں ہوتی ہیں جو دنیا میں کی ہوتی ہیں اس لئے وہ عابد و عارف ان کو پہچان لیں گے ۔ میں پھر صاف کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ جہنم اور بہشت میں ایک فلسفہ ہے جس کا ربط باہم اس طرح پر قائم ہوتا ہے جو میں نے ابھی بتایا ہے مگر اس بات کو کبھی بھی بھولنا نہیں چاہئے کہ دنیا میں سزائیں تنبیہ اور عبرت کے لئے انتظامی رنگ کی حیثیت سے ہیں۔ سیاست اور رحمت دونوں باہم ایک رشتہ رکھتی ہیں اور اسی رشتہ کے اظلال یہ سزائیں اور جزائیں ہیں انسانی افعال اور اعمال اسی طرح پر محفوظ اور بند ہو جاتے ہیں جیسے فونو گراف میں آواز بند کی جاتی ہے جب تک انسان عارف نہ ہو اس سلسلہ پر غو رکر کے کوئی لذت اور فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ معرفت کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ اول خدا شناس ہو اور خدا شناسی حاصل نہیں ہوتی جب تک