السیات (ہود:۱۱۵) یعنی نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں چونکہ بدی میں ہلاکت کی زہر ہے اور نیکی میں زندگی کا تریاق اس لئے بدی کے زہر کو دور کرنے کا ذریعہ نیکی ہی ہے یا اسی کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں ۔ عذاب راحت کی نفی کا نام ہے اور نجات راہت اور خوشحالی ہی کے حصول کا نام ہے اسی طرح پر جیسے بیماری اس حالت کا نام ہے جب حالت بدن مجری طبیعت پر نہ رہے۔اور صحت وہ حالت ہے امور طبیعیہ اپنی اصلی حالت پر قائم ہوں اور جیسے کسی ہاتھ پائوں یا کسی عضو کے اپنے مقام خاص سے ذرا ادھر ادھر کھسک جانے سے درد شروع ہو جاتا ہے اور و ہ عضو نکما ہو جاتا ہے اگرچندے اسی حالت پر رہے ، تو پھر نہ خود بالکل بیکار ہو جاتا ہے بلکہ دوسرے اعضاء پر بھی اپنا برا اثر ڈالنے لگتا ہے ۔ بعینہٖ یہی حالت روحانی ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے سامنے سے جو اس کی زندگی کا اصل موجب مایۂ حیات ہے ، ہٹ جاتا ہے اور فطرتی دین کو چھوڑ بیٹھتا ہے ، تو عذاب شروع ہو جات ہے اور اگر قلب مردہ نہ ہو گیا ہو ۔اور اس میں احساس کا مادہ باقی ہو۔ تو وہ اس عذاب کو خوب محسوس کرتا ہے اور اگر اس بگڑی ہوئی حالت کی اصلاح نہ کی جاوے ، تو اندیشہ ہوتا ہے کہ پھر ساری روحانی قوتیں رفتہ رفتہ نکمی اور بیکار ہو جائیں اور ایک شدید عذاب شروع ہو جاوے ۔ پس اب کیسی صفائی کے ساتھ یہ امر سمجھ میں آجاتا ہے کہ کوئی عذاب باہر سے نہیں آتا بلکہ خود انسان کے اندر ہی سے نکلتا ہے ۔ ہم کو اس سے انکار نہیں کہ عذاب خدا کا فعل ہے ۔ بے شک اس کا فعل ہے ۔ مگر اسی طرح جیسے کوئی زہر کھائے توخدا اسے ہلاک کر دے۔ پس خدا کا فعل انسان کے اپنے فعل کے بعد ہوتا ہے اسی کی طرف اللہ جلشانہٗ اشارہ فرماتا ہے ناراللّہ الموقدۃ التی تطلع علی الأفئدۃ( الہمزہ:۷،۸) یعنی خدا کا عذاب وہ آگ ہے جس کو خدا بھڑکاتا ہے اورا س کا شعلہ انسان کے دل ہی سے اٹھتا ہے ۔ اس کا مطلب صاف لفظوں میں یہی ہے کہ عذاب کا اصل بیج اپنے وجود ہی کی ناپاکی ہے ۔ جو عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی طرح بہشت کی راحت کا اصل سرچشمہ بھی انسان کے اپنے ہی افعال ہیں ۔ اگر وہ فطرتی دین کا نہیں چھوڑتی اگر وہ مرکز اعتدال سے ادھر ادھر نہیں ہٹتا اور عبودیت الوہیت کے محاذ میں پڑی ہوئی اس کے انوار سے حصہ لے رہی ہے تو پھر یہ عضو صحیح کی طرح سے جو مقام سے ہٹ نہیں گیا اور برابر اس کام کو دے رہا ہے جس کے لئے خدا نے کو پیدا کیا ہے اور اسے کچھ بھی درد نہیں بلکہ راحت ہے۔ قرآن شریف میں فرماتا ہے و بشر الذین آمنوا واعملوا الصالحات ان لہم جنت تجری من تحتہا الانہار( البقرہ:۲۶) یعنی و ہ لوگ جو ایمان لئے اور اچھے عمل کرتے ہیں ان کو خوشخبری دے دو کہ وہ ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہیں اس آیت میں ایمان کو اللہ تعالیٰ نے باغ سے مثال