کسی خدا نما انسان کی مجلس میں صدق نیت اور اخلاص کے ساتھ ایک کافی مدت تک نہ رہے۔اس کے بعد وہ اس سلسلہ کو جو جزا سزا کا اور دنیا اور عقبی کا ہے بری سہولت کے ساتھ سمجھ لے گا س بیان پر غور کرنے سے یہ بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ اور بہشت کی فلاسفی جوقرآن شریف نے بیان فرمائی ہے وہ کسی اور کتاب نے نہیں بتائی اور قرآن شریف کے مطالعہ سے یہ امر بھی کھل جاتا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کو تدریجاً بیان فرمایا ہے مگر یہ راز ان پر ہی کھلتا ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور پاک نفس لے کر سوچتے ہیں کیونکہ کوئی عمدہ بات بدوں تکلیف کہ نہیں ملتی ہے یہ کہنا کہ ہر شخص اس راز پر کیوں اطلاع نہیں پا سکتا میں کہتا ہوں کہ دیکھو ہمارے حواس کے کام الگ الگ ہیں مثلاً آنکھ دیکھ سکتی ہے زبان چکھ سکتی ہے اور بول سکتی ہے کان سن سکتے ہیں گویاہر ایک حواس میں سے اپنے اپنے فرائض اور قوت کے کے ذمہ دار ہیں ۔ یہ کبھی نہیںہو سکتا ہے کہ کان کے پاس مصری کی ڈلی رکھ دی جائے اور وہ اس کا ذائقہ بتا دے۔اور آنکھ خارجی آوازیں سن لے یا زبان دیکھ لے پس اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی معرفت کے دقیق اسرار کو معلوم کرنے کے واسطے خاص قوی ہیں ۔ وہی ان پر اطلاع دے سکتے ہیں اور یہ قوی دئیے تو سب کو گئے ہیں لیکن ان سے کام ل ینے والے بہت تھوڑے ہیں ۔ظن کا کو ئی قوی اثر نہیں ہوسکتا۔یہی وجہ ہے کہ فلاسفروں کی ایمانی حالت بہت کمزور ہوتی ہے اور وہ ظنیات سے آگے نہیں بڑھتے افلاطون جو بڑا مدبر اور دانشمند سمجھا جاتا تھا جب مرنے لگا تو اس نے یہی کہا کہ فلاں بت پر اس کے لئے مرغا چڑھا دینا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیسا کمزور ایمان تھا توحید پر قائم نہ ہوا۔
پس وہ عظیم ذریعہ جس سے ایک چمکتا ہوا یقین حاصل ہو اور خدا تعالیٰ کی بصیرت کے ساتھ ایمان قائم ہو ایک ہی ہے کہ انسان ان لوگوں کی صحبت اختیار کرے جو خدا تعالیٰ کے وجود پر زندہ شہادت دینے والے ہوں خود جنہوں نے اس سے سن لیا ہے کہ وہ ایک قادر مطلق اور عالم الغیب تمام صفات کاملہ سے موصوف خدا ہے۔
ابتداء میں جب انسان ایسے لوگوں کی صحبت میں جاتا ہے توا س کی باتیں بالکل انوکھی اور نرالی معلوم ہوتی ہیںوہ بہت کم دل میں جاتی ہیں گو دل ان کی طرف کھنچا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اندر کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے ان کی معرفت کی باتوں کی ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے جو کچھ گردو غبار دل پر بیٹھا ہوتا ہے صادق کی باتیں ان کو دور کر کے اسے جلا دینا چاہتی ہے تا اس میں یقین کی قوت پیدا ہو جیسے جب کبھی کسی آدمی مسہل دیا جاتا ہے تو دست آور پیٹ میں جا کر ایک گڑگڑاہٹ پیدا کر دیتی ہے اور تمام مواد ردّیہ اور فاسدہ کو حرکت اور جوش دے کر باہر نکالتی ہے اسی طرح پر صادق ان ظنیات کو دور کرنا چاہتا ہے اور سچے علوم اور اعتقاد صحیحہ کی معرفت کرانی چاہتا ہے اور وہ باتیں اس کے دل کو جس نے بہت بڑا زمانہ ایک اور ہی دنیا میں بسر کیا ہوا ہتا ہے ناگوار اور ناقابل عمل